Latest Books :
Recent Books

بھوک اور موت سے جڑی تصویر کی کہانی


بھوک اور موت سے جڑی تصویر کی کہانی

آپ نے یہ تصویر تو کافی دفعہ دیکھی ہوگی لیکن شائد آپ اس تصویر سے جڑی عجیب و غریب داستان سے واقف نہیں ہوں گے ؟ آئیے اپنے ورثہ پیج کے دوستوں کو اس کے بارے بتاتے ہیں۔


مارچ1993ء میں کیون کارٹر نے یہ تصویر کھینچی اس تصویر نے انعام بھی جیتا تھا۔یہ تصویر سوڈان میں لی گئی جب وہاں خوراک کا قحط تھا اور اقوام متحدہ کے تحت وہاں وہاں خوراک کے مراکز قائم کیے گئے تھے۔فوٹو گرافر کیون کارٹر کے مطابق وہ ان خوراک کے مراکز کی فوٹو گرافی کرنے جا رہا تھا جب راستے میں اس لڑکے کو دیکھا جو کہ انہی مراکز کی جانب جانے کی کوشش میں تھا لیکن بھوک کمزوری فاقوں کی وجہ سے اس کایہ حال تھا کہ اس سے ایک قدم اٹھانا دوبھر تھا۔آخر یہ لڑکا تھک ہار کر گر گیا اور زمین سے سر لگا دیا۔تصویر میں دیکھیں پیچھے ایک گدھ موجود ہے جو کہ اس انتظار میں ہے کب یہ لڑکا مرے کب میں اسے کھاوں۔بس اسی منظر نے اس تصویر کی تاریخ کو آنسووں سے بھر دیا۔کیون کارٹر نے یہ تصویر نیو یارک ٹائمز کو بیچی اور نیویارک ٹائمز کے مطابق جب انھوں نے یہ تصویر شائع کی تو ایک دن میں ان سے ہزاروں لوگوں نے رابطہ کیا اور اس لڑکے کا انجام جاننا چاہا کہ کیایہ بچ گیا تھا؟لیکن نیو یارک ٹائمز والے خود اس کے انجام سے بے خبر تھے۔

بات یہیں ختم نہیں ہوتی۔فوٹوگرافر کیون کارٹر جس نے یہ سارا منظر کیمرے میں قید کیا وہ اس تصویر کے بعد اکثر اداس رہنے لگا اور ڈپریشن کا مریض بن گیا آخر اس میں موجود منظر نے اس فوٹو گرافر کو اپنی جان لینے پر مجبور کر دیا۔کیون نے تینتیس سال کی عمر میں خود کشی کر لی۔اس کی خود کشی کا طریقہ بھی بہت عجیب تھا۔وہ اپنے گھر کے پاس والے اس میدان میں گیا جہاں وہ بچپن میں کھیلتا تھا اس نے اپنے کار کے سائلنسرمیں ایک ٹیوب فکس کی اور اس ٹیوب کو ڈرائیورنگ سیٹ والی کھڑکی سے کار کے اندر لے آیا تمام کھڑکیاں تمام دروزے لاک کر دیے اور گاڑی اسٹارٹ کر دی۔۔گاڑی میں سائلنسر سے نکلتا ہوا دھواں بھرنا شروع ہوا دھویں میں کاربن مونو آکسائیڈ ہوتی ہے جو کہ جان لیوا ہوتی ہے اسی کاربن مونو آکسائیڈ نے کیون کی جان لے لی۔اس نے جو تحریر چھوڑی اس کا ایک حصہ یہ بھی تھا۔
" درد،بھوک ،اور فاقوں سے مرتے بچوں کی لاشوں کا مجھ پر سایہ ہے."

کچھ لوگوں کے مطابق اس کی موت کی وجہ اس کے ضمیر کی خلش تھی جو اسے دن رات سونے نہیں دیتی تھی ۔جب اسے تصویر کھینچنے کے بعد انعام دیا گیا تو بہت سی تنظیموں نے اس پہ شدید اعتراضات کیئے ۔لوگ اس سے پوچھتے تھے کہ اس نے تصویر تو بنا لی مگر اس نے اس بے بس بچے کو بچانے کے لیئے کوئی اقدام کیوں نہیں اٹھایا ۔وہ چاہتا تو اسے بچا بھی سکتا تھا مگر اس نے ایسا کیوں نہ کیا ؟ اس کے پاس اس سوال کا کوئی جواب نہیں تھا اگر اس نے کچھ کیا ہوتا تو یقینا اپنی زبان کھولتا ۔ اسے اس بچے سے زیادہ اپنے فوٹو گرافی کے پیشے سے زیادہ پیار تھا ۔ بس یہی خیالات اسے رات بھر ستاتے رہتے اور وہ چین کی نیند نہیں سو سکتا تھا۔ اور اسی تصویر نے اسے دنیا میں شہرت دی اور یہ ہی تصویر اس کی خودکشی کی وجہ بھی بنی۔
{[['']]}

Tafseer E Mazhari by Qazi Sanaullah Panipati Naqshbandi (r.a) complete

Title: Tafseer E Mazhari
Author: Qazi Thana’ullah Panipati Naqshbandi (r.a)
Format: PDF
Type: Islamic Book
Urdu Title: تفسیر مظہری مکمل
حصّہ اول 
حصّہ دوم 
حصّہ سوم 
حصّہ چہارم 
حصّہ پنجم 
حصّہ ششم  
حصّہ ہفتم
حصّہ ہشتم 
حصّہ نہم 
حصّہ دہم 
گیارواں حصّہ 
بارواں حصّہ 

Note: All urdu novels and urdu books available in PDF format Imran series download and Islamic books free any time don't forget to bookmark http://www.urdupunch.co.vu
feedback requerd 
{[['']]}

آیت الکرسی کی فضیلت

آیت الکرسی کی فضیلت
حدیث پاک میں آتا ھے جسے یہ بات بھلی معلوم ھو کہ اللہ تعالی اس کے گھر کو بھلائی اور خیر کثیر سے بھر دے تو اسے چاہیے کہ وہ آیت الکرسی کا ورد رکھے
جو شخص با وضو ایک مرتبہ آیت الکرسی پڑھے گا اللہ تعالی اس کے چالیس درجے بلند کرے گا اور ہر ہر حرف سے ایک ایک فرشتہ پیدا کرے گا جو قیامت کے دن اس کے لیے بخشش کی دعا مانگیں گے
دوسری جگہ ارشاد ہے کہ
جو شخص سوتے مرتبہ آیت الکرسی پڑھے گا اللہ تعالی اس کے لیے صبح تک رحمت کے دروازے کھول دے گا اور اس کے بدن کے ہر ہر بال کی گنتی کی مقدار نور کا ایک شہر عنایت کرے گا اگر یہ شخص اس رات کو مر جائے گا تو شہید مرے گا
ایک اور حدیث پاک ھے کہ جو شخص غروب آفتاب کے وقت چالیس مرتبہ آیت الکرسی پڑھے اللہ تعالی اس کو چالیس حج کا ثواب دے گا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا ایک اور ارشاد مبارک ھے کہ
جو شخص ہر فرض نماز کے بعد آیت الکرسی پڑھنے کا ورد رکھے گا وہ ملک الموت کی سختی سے محفوظ رھے گا اللہ تعالی خود اس کی روح قبض کرے گا اور یہ شخص ان لوگوں کے درجہ میں شمار ہو گا جو خدا کے مقدس پیغمبروں کے ہمراہ جہاد میں لڑتا لڑتا شہید ہو جائے
اللہ تعالی ہمیں عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے

{[['']]}

مختلف پرندوں کی نصحتیں تفسیر مظہری

مختلف پرندوں کی نصحتیں
جنگلی کبوتر نے حضرت سلیمان علیہ السلام کے پاس آواز نکالی۔ آپ نے حاضرین سے پوچھا: " کیا تمھیں معلوم ہےکہ یہ کیا کہہ رہاہے؟"
حاضرین نے کہا: " نہیںَ"
حضرت سلیمان علیہ اسلام نے فرمایا: " یہ کہہ رہا ہے ، مرنے کے لیے جنم دو اور ویران ہونے کے لیے عمارتیں بناؤ۔"
فاختہ چیخی۔ پھر پہلے کی طرح سوال جواب ہوا، آپ علیہ السلام نے فرمایا: " یہ کہہ رہی ہے ، کاش یہ مخلوق پیدا ہی نہ کی جاتی۔"
مور چیخا تو آپ علیہ السلام نے فرمایا:
" یہ کہہ رہا ہے، جیسا دوسروں کے ساتھ معاملہ کروگے ویسا ہی تم سے کیا جائے گا۔"
ہُد ہُد بولا تو آپ علیہ السلام نے فرمایا: " یہ کہہ رہا ہے ، جو رحم نہیں کرے گا، اس پر رحم نہیں کیا جائے گا۔"
ترمتی( باز اور شکرہ کی طرح شکاری پرندہ) نے آواز دی۔ فرمایا: " یہ کہہ رہی ہے، گناہ گارو! اللہ سے معافی کی درخواست کرو۔"
تیہو ( ایک قسم کا مرغ) چیخا، فرمایا: " یہ کہہ رہا ہے، زندہ مرے گا اور ہر نیا پرانا فرسودہ ہوگا۔"
خطَّاف( ابابیل کی قسم کا پرندہ جس کے بازو بہت لمبے ہوتے ہیں اور بہت تیز اڑتا ہے) چیخا تو آپ علیہ السلام نے فرمایا: " یہ کہہ رہا ہے، پہلے سے نیکی بھیجو( وہاں) تمھیں مل جائے گی۔"
کبوتری نے آواز دی تو آپ علیہ السلام نے فرمایا: " یہ کہہ رہی ہے، پاکی بیان کرو میرے ربّ برترکی ، اتنی کہ جو آسمانوں اور زمین کو بھر دے۔"
قمری چیخی تو آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ یہ کہہ رہی ہے، میرے ربِّ اعلٰی کی پاکی بیان کرو۔"
آپ علیہ السلام نے فرمایا: " کوا کلِ مال کا دسواں حصہ بطور ٹیکس وصول کرنے والوں کے لیے بددعا کرتا ہے ،
چیل کہتی ہے، سوا اللہ کے ہر چیز کو فنا ہے۔
قسطاۃ کہتی ہے، جو خاموش رہا محفوظ رہا۔
طوطا کہتا ہے ، تباہی ہے اس کے لیے جس کا مقصد دنیا ہی ہے۔ مینڈک کہتا ہے میرے ربّ قدوس کی پاکی بیان کرو۔
باز کہتا ہے ، میرے ربّ کی پاکی بیان کرو اور ثنا کرو۔
مینڈکی کہتی ہے پاکی بیان کر اس کی کہ جس کا ذکر ہر زبان پر ہے۔ تیتر کہتا ہے، الرحمٰن علی العرش استویٰ( رحمٰن عرش پر متمکن ہے۔"
( تفسیر مظہری)
"مختلف پرندوں کی نصحتیں
جنگلی کبوتر نے حضرت سلیمان علیہ السلام کے پاس آواز نکالی۔ آپ نے حاضرین سے پوچھا: " کیا تمھیں معلوم ہےکہ یہ کیا کہہ رہاہے؟"
حاضرین نے کہا: " نہیںَ"
حضرت سلیمان علیہ اسلام نے فرمایا: " یہ کہہ رہا ہے ، مرنے کے لیے جنم دو اور ویران ہونے کے لیے عمارتیں بناؤ۔"
فاختہ چیخی۔ پھر پہلے کی طرح سوال جواب ہوا، آپ علیہ السلام نے فرمایا: " یہ کہہ رہی ہے ، کاش یہ مخلوق پیدا ہی نہ کی جاتی۔"
مور چیخا تو آپ علیہ السلام نے فرمایا:
" یہ کہہ رہا ہے، جیسا دوسروں کے ساتھ معاملہ کروگے ویسا ہی تم سے کیا جائے گا۔"
ہُد ہُد بولا تو آپ علیہ السلام نے فرمایا: " یہ کہہ رہا ہے ، جو رحم نہیں کرے گا، اس پر رحم نہیں کیا جائے گا۔"
ترمتی( باز اور شکرہ کی طرح شکاری پرندہ) نے آواز دی۔ فرمایا: " یہ کہہ رہی ہے، گناہ گارو! اللہ سے معافی کی درخواست کرو۔"
تیہو ( ایک قسم کا مرغ) چیخا، فرمایا: " یہ کہہ رہا ہے، زندہ مرے گا اور ہر نیا پرانا فرسودہ ہوگا۔"
خطَّاف( ابابیل کی قسم کا پرندہ جس کے بازو بہت لمبے ہوتے ہیں اور بہت تیز اڑتا ہے) چیخا تو آپ علیہ السلام نے فرمایا: " یہ کہہ رہا ہے، پہلے سے نیکی بھیجو( وہاں) تمھیں مل جائے گی۔"
کبوتری نے آواز دی تو آپ علیہ السلام نے فرمایا: " یہ کہہ رہی ہے، پاکی بیان کرو میرے ربّ برترکی ، اتنی کہ جو آسمانوں اور زمین کو بھر دے۔"
قمری چیخی تو آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ یہ کہہ رہی ہے، میرے ربِّ اعلٰی کی پاکی بیان کرو۔"
آپ علیہ السلام نے فرمایا: " کوا کلِ مال کا دسواں حصہ بطور ٹیکس وصول کرنے والوں کے لیے بددعا کرتا ہے ،
چیل کہتی ہے، سوا اللہ کے ہر چیز کو فنا ہے۔
قسطاۃ کہتی ہے، جو خاموش رہا محفوظ رہا۔
طوطا کہتا ہے ، تباہی ہے اس کے لیے جس کا مقصد دنیا ہی ہے۔ مینڈک کہتا ہے میرے ربّ قدوس کی پاکی بیان کرو۔
باز کہتا ہے ، میرے ربّ کی پاکی بیان کرو اور ثنا کرو۔
مینڈکی کہتی ہے پاکی بیان کر اس کی کہ جس کا ذکر ہر زبان پر ہے۔ تیتر کہتا ہے، الرحمٰن علی العرش استویٰ( رحمٰن عرش پر متمکن ہے۔"
( تفسیر مظہری)"
{[['']]}

ﻃﺎﻟﺐِ ﺧﺪﺍ ﺍﺷﻔﺎﻕ ﺍﺣﻤﺪ ﺑﺎﺑﺎ ﺻﺎﺣﺒﺎ

ﻃﺎﻟﺐِ ﺧﺪﺍ
ﺣﻀﺮﺕ ﻣﻮﺳﯽٰ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﻧﮯ ﺟﻨﺎﺏ ﺑﺎﺭﯼ ﻣﯿﮟ ﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﺗﯿﺮﯼ ﺑﺎﺭﮔﺎﮦ ﻣﯿﮟ ﻣﯿﺮﺍ ﮐﻮﻧﺴﺎ ﻓﻌﻞ ﭘﺴﻨﺪﯾﺪﮦ ﮨﮯ ﺗﺎ ﮐﮧ ﺍﺳﮯ ﻣﯿﮟ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮐﺮﻭﮞ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﺭ ﺑﺎﺭ ﮐﺮﻭﮞ ۔ ﺣﮑﻢ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﯾﮧ ﻓﻌﻞ ﮨﻤﯿﮟ ﭘﺴﻨﺪ ﺁﯾﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺯﻣﺎﻧﮧ ﻃﻔﻠﯽ ﻣﯿﮟ ﺟﺐ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﻣﺎﮞ ﺗﻢ ﮐﻮ ﻣﺎﺭﺍ ﮐﺮﺗﯽ ﺗﮭﯽ ﺗﻮ ﺗﻢ ﻣﺎﺭ ﮐﮭﺎ ﮐﺮ ﺑﮭﯽ ﺍﺳﯽ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺩﻭﮌﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﯽ ﮐﯽ ﺟﮭﻮﻟﯽ ﻣﯿﮟ ﮔﮭﺴﺘﮯ ﺗﮭﮯ ۔ ﭘﺲ ﻃﺎﻟﺐِ ﺧﺪﺍ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﯾﮩﯽ ﻻﺯﻡ ﮨﮯ ﮐﮧ ﮔﻮ ﮐﯿﺴﯽ ﺑﮭﯽ ﺳﺨﺘﯽ ﮨﻮ ، ﮐﯿﺴﯽ ﺑﮭﯽ ﺫﻟﺖ ﻭ ﺧﻮﺍﺭﯼ ﭘﯿﺶ ﺁﺋﮯ ، ﮨﺮ ﺣﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﺧﺪﺍ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﻣﺘﻮﺟﮧ ﺭﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻓﻀﻞ ﮐﺎ ﻃﻠﺒﮕﺎﺭ ﺭﮨﮯ ۔
ﻧﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﺳﺎﺟﺪ ﻧﮧ ﻣﺴﺠﻮﺩ ، ﻧﮧ ﻋﺎﺑﺪ ﻧﮧ ﻣﻌﺒﻮﺩ ۔ ﻧﮧ ﺁﺩﻡ ﻧﮧ ﺍﺑﻠﯿﺲ۔ ﺻﺮﻑ ﺍﯾﮏ ﺫﺍﺕ ﻗﺪﯾﻢ ، ﺻﻔﺎﺕ ﺭﻧﮕﺎ ﺭﻧﮓ ﻣﯿﮟ ﺟﻠﻮﮦ ﮔﺮ ﮨﮯ ۔
ﻧﮧ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺍﺑﺘﺪﺍ ﻧﮧ ﺍﻧﺘﮩﺎ ، ﻧﮧ ﺍﺱ ﮐﻮ ﮐﺴﯽ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﻧﮧ ﺳﻤﺠﮭﺎ ۔ ﻧﮧ ﻓﮩﻢ ﻭ ﻗﯿﺎﺱ ﻣﯿﮟ ﺁﺋﮯ ، ﻧﮧ ﻭﮨﻢ ﻭ ﮔﻤﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺳﻤﺎﺋﮯ ۔ ﺟﯿﺴﺎ ﺗﮭﺎ ﻭﯾﺴﺎ ﮨﯽ ﮨﮯ ۔ ﺍﻭﺭ ﺟﯿﺴﺎ ﮨﮯ ﻭﯾﺴﺎ ﮨﯽ ﺭﮨﯿﮕﺎ ۔ ﻧﮧ ﮔﮭﭩﮯ ﻧﮧ ﺑﮍﮨﮯ ﻧﮧ ﺍﺗﺮﮮ ﻧﮧ ﭼﮍﮨﮯ ۔ ﻭﮦ ﺍﯾﮏ ﮨﮯ ۔
ﻟﯿﮑﻦ ﺍﯾﮏ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ، ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺍﺱ ﮐﻮ ﻣﻮﺟﻮﺩﺍﺕ ﺳﮯ ﺍﻟﮓ ﺳﻤﺠﮭﻨﺎ ﻧﺎﺩﺍﻧﯽ ﺍﻭﺭ ﺣﺪ ﺭﮐﮭﺘﺎ ﮨﮯ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﻃﺮﺡ ﻃﺮﺡ ﮐﮯ ﮐﺎﺭﻭﺑﺎﺭ ﺍﻭﺭ ﺭﻧﮕﺎ ﺭﻧﮓ ﺍﺷﻌﺎﻝ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﯿﮟ ۔ ﺍﯾﺴﮯ ﮨﯽ ﺧﺪﺍ ﺟﻮﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﺧﺪﺍ ﺷﻨﺎﺳﯽ ﺑﮭﯽ ﺍﯾﮏ ﺩﮬﻨﺪﮦ ﮨﮯ ﺟﺲ ﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﺳﺮ ﭘﯿﺮ ﻧﮩﯿﮟ ۔
ﺍﺷﻔﺎﻕ ﺍﺣﻤﺪ ﺑﺎﺑﺎ ﺻﺎﺣﺒﺎ ﺻﻔﺤﮧ
{[['']]}

ﺍﻥ ﺩﻧﻮﮞ ﯾﮩﯽ ﻓﯿﺸﻦ ﮨﮯ؟

ﺍﻥ ﺩﻧﻮﮞ ﯾﮩﯽ ﻓﯿﺸﻦ ﮨﮯ؟
ﺍﯾﮏ ﻣﺘﻨﺎﺳﺐ ﺑﺪﻥ ﮐﯽ ﺩﺭﺍﺯ ﻗﺎﻣﺖ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﻣﯿﺮﮮ ﻗﺮﯾﺐ ﺳﮯ ﮔﺰﺭﯾﮟ ﺗﻮ ﻣﯿﺮﺍ ﺩﻝ ﺩﮬﮏ
ﺳﮯ ﺭﮦ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﯿﮕﻢ ﮐﮯ ﮐﻨﺪﮬﮯ ﮐﻮﺟﮭﻨﺠﮭﻮﮌ ﮐﺮ ﮐﮩﺎ. ﺗﻢ ﻧﮯ
ﺩﯾﮑﮭﺎ? ﺗﻢ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ؟
ﺍﺱ ﻧﮯ ﺑﯿﺰﺍﺭ ﮨﻮﮐﺮ ﺍﺩﮬﺮ ﺍﺩﮬﺮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ ﮐﯿﺎ ﺩﯾﮑﮭﺎ؟
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮨﮑﻼﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﮩﺎ ﻭﮦ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺻﺮﻑ ﺍﯾﮏ ﻗﻤﯿﺾ ﭘﮩﻦ ﺭﮐﮭﯽ ﮨﮯ
ﺍﻭﺭ ﺍﻭﺭﺷﺎﯾﺪ ﺷﻠﻮﺍﺭ ﭘﮩﻨﻨﺎ ﺑﮭﻮﻝ ﮔﺌﯽ ﮨﮯ.
ﮐﭽﮫ ﺣﯿﺎ ﮐﺮﻭ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﮈﺍﻧﭩﺎ.
ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺍﻭﻧﭽﯽ ﺳﻮﺳﺎﺋﭩﯽ ﮐﯽ ﻣﺤﻔﻠﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﭩﮭﻨﮯ ﮐﺎﮐﭽﮫ ﺗﺠﺮﺑﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺷﻠﻮﺍﺭ ﻧﮩﯿﮟ ﭼﺴﺖ ﭘﺎﺟﺎﻣﮧ ﭘﮩﻦ ﺭﮐﮭﺎﮨﮯ ﺟﻮﮔﮭﭩﻨﻮﮞ ﺳﮯ ﺫﺭﺍ ﻧﯿﭽﮯ ﺁﮐﺮ ﺧﺘﻢ
ﮨﻮﺟﺎﺗﺎﮨﮯ ﺍﻥ ﺩﻧﻮﮞ ﯾﮩﯽ ﻓﯿﺸﻦ ﮨﮯ۔
ﺍﺏ ﻏﻮﺭ ﮐﯿﺎﺗﻮ ﻭﺍﻗﻌﯽ ﻗﻤﯿﺾ ﮐﮯ ﺁﺧﺮ ﻣﯿﮟ ﺩﻭﭼﺎﺭ ﮔﺮﮦ ﮐﭽﮫ ﺗﮭﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﭘﻨﮉﻟﯿﺎﮞ ﻋﯿﺎﮞ ﺗﮭﯿﮟ ﺍﺱ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﺍﯾﮏ ﺍﻭﺭﺧﺎﺗﻮﻥ ﻭﯾﮉﯾﻮ ﮐﯿﻤﺮﮮ ﮐﯽ ﺯﺩ ﻣﯿﮟ ﺁﺋﯽ ﺗﻮ ﻣﯿﺮﺍ ﺩﻝ
ﺩﻭﺑﺎﺭﮦ ﺩﮬﮏ ﺳﮯ ﺭﮦ ﮔﯿﺎ. ﺑﯿﮕﻢ ﺍﺏ ﺗﻢ ﺑﺘﺎﺅ ﮐﮧ ﺍﺱ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﻧﮯ ﮐﯿﺎ ﭘﮩﻨﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ ﺍﮔﺮ
ﮐﭽﮫ ﭘﮩﻨ ﺎﮨﻮﺍ ﮨﮯ ﺗﻮ ؟
ﺑﯿﮕﻢ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﺮﯼ ﻃﺮﺡ ﮔﮭﻮﺭﺍ ﺗﻢ ﺍﺱ ﻋﻤﺮ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺑﺎﺯ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺗﮯ ﮐﯿﻮﮞ ﺍﺩﮬﺮ
ﺍﺩﮬﺮ ﺗﺎﻧﮏ ﺟﮭﺎﻧﮏ ﮐﺮﺭﮨﮯ ﮨﻮ ؟
ﺑﯿﮕﻢ ﻣﯿﮟ ﺍﺗﻨﯽ ﺩﯾﺮﺳﮯ ﺑﯿﮑﺎﺭ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﺍﻧﮕﻠﯿﺎﮞ ﭼﭩﺨﺎ ﺭﮨﺎﮨﻮﮞ ﮐﯿﺎ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﺑﻨﺪ
ﮐﺮﮐﮯ ﺑﯿﭩﮫ ﺟﺎﺅﮞ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻏﺼﮯ ﻣﯿﮟ ﺁﮐﺮﮐﮩﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﺗﺎﻧﮏ ﺟﮭﺎﻧﮏ ﻧﮩﯿﮟ
ﮐﺮﺭﮨﺎ ﯾﮩﺎﮞ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﺍﮐﺜﺮ ﺧﻮﺍﺗﯿﻦ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﺗﺎﻧﮏ ﺟﮭﺎﻧﮏ ﮐﺮﻭﺍ ﺭﮨﯽ ﮨﯿﮟ ﺁﺧﺮ
ﮐﯿﻮﮞ ﺍﯾﺴﮯ ﻟﺒﺎﺱ ﭘﮩﻨﺘﯽ ﮨﯿﮟ؟؟
ﺍﻥ ﺩﻧﻮﮞ ﯾﮩﯽ ﻓﯿﺸﻦ ﮨﮯ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻣﺴﮑﺮﺍ ﮐﺮﮐﮩﺎ.
ﺍﺱ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﺍﯾﮏ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ,ﻗﯿﺎﺱ ﺗﻮ ﯾﮩﯽ
ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺍﯾﮏ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﺗﮭﺎ ﻋﺠﯿﺐ ﺯﻧﺎﻧﮧ ﺳﮯ ﮐﭙﮍﮮ ﭘﮩﻨﮯ ﻣﭩﮑﺘﺎﮨﻮﺍ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﭘﺎﺱ ﺳﮯ
ﮔﺰﺭ ﮔﯿﺎ۔
ﮨﺎ ﮨﺎﺋﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﺑﯿﮕﻢ ﻧﮯ ﻟﺒﻮﮞ ﭘﺮﮨﺘﮭﯿﻠﯽ ﺭﮐﮫ ﮐﺮﮐﮩﺎ ﯾﮧ ﭘﺘﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻨﺪﮦ ﺗﮭﺎ ﯾﺎﺯﻧﺎﻧﯽ؟
"ﺍﻥ ﺩﻧﻮﮞ ﯾﮩﯽ ﻓﯿﺸﻦ ﮨﮯ" ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺑﺪﻟﮧ ﻟﮯ ﻟﯿﺎ۔
ﺣﻮﯾﻠﯽ ﮐﮯ ﺑﮭﻮﺕ ﭘﺮﯾﺖ۔۔۔۔ﻣﺴﺘﻨﺼﺮ ﺣﺴﯿﻦ ﺗﺎﺭﮌ
{[['']]}

تیری آنکھوں کے دریا کا اترنا بهی ضروری تھا،


تیری آنکھوں کے دریا کا اترنا بهی ضروری تھا،
محبت بهی ضروری تهی، بچهڑنا بهی ضروری تھا،
ضروری تھا کہ ہم دونوں طوافِ آرزو کرتے،
مگر پھر آرزوؤں کا بکهرنا بهی ضروری تھا،
بتاؤ یاد ہے تم کو، وہ جب دل کو چرایا تھا،
چرائی چیز کو تم نے خدا کا گهر بنایا تھا،
وہ جب کہتے تھے میرا نام تم تسبیح میں پڑهتے ہو،
محبت کی نمازوں کو قضا کرنے سے ڈرتے ہو،
مگر اب یاد آتا ہے وہ باتیں تهی محض باتیں،
کہی باتوں ہی باتوں میں مکرنا بهی ضروری تھا،
تیری آنکھوں کے دریا کا اترنا بهی ضروری تھا،
وہی ہیں صورتیں اپنی وہی میں ہوں وہی تم ہو،
مگر کهویا ہوا ہوں میں مگر تم بهی کہیں گم ہو،
محبت میں دغا کی تھی سو کافر تهے سو کافر ہیں،
ملی ہیں منزلیں پهر بهی مسافر تهے مسافر ہیں،
تیرے دل کے نکالے ہم کہاں بهٹکے، کہاں پہنچے،
مگر بهٹکے تو یاد آیا بهٹکنا بهی ضروری تھا،
تیری آنکھوں کے دریا کا اترنا بهی ضروری تھا،
{[['']]}

سبق آموز تحریر انصاف

انصاف 

ایک طوطا اور مینا کا گزر ایک ویرانے سے ہوا، وہ دم لینے کے لئے ایک ٹنڈ منڈ درخت پر بیٹھ گئے- طوطے نے مینا سے کہا “اس علاقے کی ویرانی دیکھ کر لگتا ہے کہ الوؤں نے یہاں بسیرا کیا ہو گا”
ساتھ والی شاخ پر ایک الو بیٹھا تھا اس نے یہ سن کر اڈاری ماری اور ان کے برابر میں آ کر بیٹھ گیا- علیک سلیک کے بعد الو نے طوطا اور مینا کو مخاطب کیا اور کہا “آپ میرے علاقے میں آئے ہیں، میں ممنون ہوں گا اگر آپ آج رات کا کھانا میرے غریب کھانے پر تناول فرمائیں”-
اس جوڑے نے الو کی دعوت قبول کر لی- رات کا کھانا کھانے اور پھر آرام کرنے کے بعد جب وہ صبح واپس نکلنے لگے تو الو نے مینا کا ہاتھ پکڑ لیا اور طوطے کو مخاطب کر کے کہا ” اسے کہاں لے کر جا رہے ہو، یہ میری بیوی ہے”
یہ سن کر طوطا پریشان ہو گیا اور بولا ” یہ تمہاری بیوی کیسے ہو سکتی ہے، یہ مینا ہے اور تم الو ہو، تم زیادتی کر رہے ہو”
اس پر الو اپنے ایک وزیر با تدبیر کی طرح ٹھنڈے لہجے میں بولا “ہمیں جھگڑنے کی ضرورت نہیں، عدالتیں کھل گئی ہوں گی- ہم وہاں چلتے ہیں، وہ جو فیصلہ کریں گی، ہمیں منظور ہوگا”
طوطے کو مجبوراً اس کے ساتھ جانا پڑا- جج نے دونوں طرف کے دلائل بہت تفصیل سے سنے اور آخر میں فیصلہ دیا کہ مینا طوطے کی نہیں الو کی بیوی ہے- یہ سن کر طوطا روتا ہوا ایک طرف کو چل دیا- ابھی وہ تھوڑی ہی دور گیا تھا کہ الو نے اسے آواز دی “تنہا کہاں جا رہے ہو، اپنی بیوی تو لیتے جاؤ”- طوطے نے روتے ہوئے کہا “یہ میری بیوی کہاں ہے، عدالت کے فیصلے کے مطابق اب یہ تمہاری بیوی ہے”
اس پر الو نے شفقت سے طوطے کے کاندھے پر ہاتھ رکھا اور کہا “یہ میری نہیں، تمہاری ہی بیوی ہے، میں تو صرف یہ بتانا چاہتا تھا کہ بستیاں الوؤں کی وجہ سے ویران نہیں ہوتیں بلکہ اس وقت ویران ہوتی ہیں جب وہاں سے انصاف اٹھ جاتا ہے
{[['']]}

Followers

 
Support : Creating Website | Johny Template | Mas Template
Copyright © 2011. UrduPunch - All Rights Reserved
Template Created by Creating Website Published by Mas Template
Proudly powered by Blogger