Latest Books :
Recent Books
   

Download Thehry Pani By Muhammad Fiyaz Mahi

Title: Thehry Pani
Author: Muhammad Fiyaz Mahi
Price: Free
Format: PDF
Download: Thehry Pani By Muhammad Fiyaz Mahi
Book Type: Urdu Novels
Urdu Title: ٹھہرے پانی محمّد فیاض ماہی




Note: All urdu novels and urdu Poetry books available in PDF format Imran series download and Islamic book Historical kutab free any time don't forget to bookmark http://www.urdupunch.co.vu
feedback requerd 
{[['']]}

ماں میں جلد شادی کرنا چاہتا ہوں اردو تحریر


ماں میں جلد شادی کرنا چاہتا ہوں گناہ سے بچنا چاہتا اپنا آدھا ایمان مکمل کرنا چاہتا ہوں تم کیوں نہیں میری جلد شادی نہیں کرتی ؟
میں ایک عام انسان ہوں 26 سال میری عمر ہے اور میرا گھرانہ مذہبی ہے جہاں نماز روزہ دین کو بہت اہمیت دی جاتی ہے مگر یہ اہمیت صرف نماز روزہ تک ہی ہے جو حکم اسکے علاوہ ہے وہ ہمارے خاندان میں پورتے نہیں ہوتے۔
میں نے سکول کالج یونیورسٹی سے لے کر ہر ادارے میں اپنے آپ کو گناہوں سے محفوظ رکھنے کی اللہ کی طاقت سے سے کوشش کی میرے دوست گرل فرینڈز بناتے تھے برے کام کرتے تھے ڈیٹیں مارتے تھے مگر میں نے ہمیشہ سوچا میں یہ سب کام حلال طریقے سے کروں گا جب میری عمر 24 سال ہوئی تو مجھے شدید شادی کی طلب ہونے لگی مجھے اپنے آپ کو برائی سے بچانا شدید مشکل ہوگیا میں نے اپنے گھر والوں کو کہنا شروع کیا اب وقت آگیا ہے میری شادی کر دیں میں نے پڑھائی مکمل کر لی ہے جاب بھی کرتا ہوں ایک میڈیا چینل میں مگر میرے گھر والوں نے شدید اعتراضات اٹھانے شروع کئے ابھی تمہاری عمر ہی کیا ہے میں نے انکو قرآن احادیث سے ریفرنس دئے مگر انہوں نے اسکو یہ کہ کر پرے کر دیا باقی اسلام کی باتیں بھی مانوں اور ایک دن میری ماں نے بتایا میں نے قرآن کا ترجمعہ پورا پڑھ لیا میں نے کہا ایسا پڑھنے کا فائدہ کیا جس پر عمل نہیں کرنا۔ قرآن میں لکھا ہے بالغ ہوتے شادی کرو حدیث میں آتا ہے اگر بالغ ہونے کے بعد ماں باپ شادی نا کریں اولاد گناہ کریں تو سارا گناہ ماں باپ کو ہوگا اولاد کو نہیں۔
انٹرنیٹ ٹی وی پر فحاشی کا بازار عام ہے دوستوں کے ساتھ دیکھتا ہوں وہ لڑکیوں میں انجوائے کر رہے ہیں بازاروں میں لڑکیوں پر نظر پڑ جائے باریک کپڑے جسم ٹائٹ کیسے بچاؤں اپنے آپ کو ۔ میں چڑ چڑا ہوتا جا رہا ہوں گھر والے کہتے بتمیز ہو گیا ہے مگر انکو سمجھ نہیں آتی یہ بتمیزی کیوں ہوتی ۔ میرے والد 35 ہزار کماتے ہیں 3 بہن بھائیوں سمیت پورا گھر چلاتے ہیں تو کیا میں 25 ہزار میں اپنی بیوی کے ساتھ گزارا نہیں کر سکتا ؟
مگر میری کوئی سنتا نہیں کہتے ہیں ابھی عمر ہی کیا ہے 26 سال صرف اور شادی کا نام 32 سال کی عمر سے پہلے نا لینا۔ میں کیسے سمجھاؤں نوجوانوں کو ترقی کرنے کے لئے سکون کا ماحول چاہئے اور اللہ نے قرآن میں کہاں ہے میاں بیوی ایک دوسرے سے سکون حاصل کرو کہاں گئے میرے اللہ کے احکامات اور میرے نبی ﷺ کی تعلیمات کیا یہ صرف نعرے مارنے کے لئے ہے کہ ہم عاشق رسول ہیں مگر عمل کی دفعہ زیرو۔۔۔
بہت مشکل سے جا کر 1 سال لڑ کر ماں باپ کو منایا رشتہ کرو کچھ حامی بھری انہوں نے بھی ذلیل کر کر کے مگر اسی دوران میرے دادا ابو کا انتقال ہوگیا اور انکے انتقال کے 25 دن بعد میں نے کہا میرا رشتہ کرو کہتے تمکو احساس ہے ابی فوتگی ہوئی میں نے کہا اسلام کہتا ہے 3 دن سے زیادہ کا سوگ نہیں ہوتا کہنے لگے جب ہم مریں گے اسکا مطلب تم بھنگڑے ڈالو گے۔ سمجھ آیا مجھے یہ سب باتیں صرف شادی نا کا کرنے کا بہانہ ہیں کہیں ہمارا بیٹا بہو کے پیار میں پاگل ہو کر ہاتھ سے نا نکل جائے اور کوئی وجہ نہیں
سوچتا ہوں کہ اب اگر میں برائی کی طرف مائل ہو گیا تو کون زمہ دار ہوگا میرے ماں باپ یا پھر یہ معاشرہ میڈیا سیاستدان جنہوں نے زنا آسان کر دیا ہے مگر شادیاں مشکل کر دی ہیں کیسے اللہ کی برکت نازل ہوگی اس ملک پر۔
کاش ماں باپ سمجھ جائین یہ دجالی فتنے کا دور ہے ایمان بچانا بہت مشکل اسی لئے کہتا ہوں نکاح عام کرو زنا مشکل کرو۔
{[['']]}

گستاخی دلکش تحریر

گستاخی
ایک محترم کا اعتراض آیا ،آپ نے پہلو میں کیوں رکھا ہوا ہے خدا کو ، دل میں کیوں نہیں رکھتی،، یہ گستاخی ہوئی جناب ...
ہیں ؟؟ گستاخی ؟؟
میں نے اپ سے پوچھا ، دل کہاں ہوتا ہے ،میرے خیال کے مطابق تو پہلو میں ، کہیں آپ کے خیال محترم کے مطابق ، دل، پاؤں میں تو نہیں ہوتا ؟؟ ..
اب کہو گے توبہ توبہ ، الله کا نام لے رہی ہو ، ساتھ میں پاؤں کا ذکر کاہے کو کرتی ہو بی بی ؟؟ بے ادب ..
اچھا میں بے ادب ہوں .. ٹھیک ہے ..
تم محترم یہ بتاؤ ، وہ حدیث سن رکھی ہے جس میں کہا جاتا ہے ،
تم "اس" کے کاموں میں مشغول ہو جاؤ تو وہ تمہارے ہاتھ بن جاتا ہے ، جس سے تم کام کرتے ہو ، ، وہ تمہاری آنکھ ، کان بن جاتا ہے، جس سے تم دیکھتے ، سنتے ہو .. وہ تمہارے پاؤں بن جاتا ہے، جب تم چلتے ہو "
اب بتاؤ، یہ سب کیا تھا ؟؟
اگر میں نے تمہیں یہ بتا دیا کے میں دعا کیسے مانگتی ہوں تو تم نے مجھے حد ادب کہہ کہ جوتا اٹھا لینا ہے ، دیکھو ، میں اسکی چادر کا کونہ پکڑ لیتی ہوں ، اور تب تک نہیں چھوڑتی جب تک، دل مطمئن نہ ہوجاے، (دعا قبول ہو یا نہ ہو)
اب تمآرا اگلا اعتراض، چادر ؟؟ الله چادر کا محتاج نہیں ....
سنو یہ نہیں سنا کبھی " کبیرائی اس ذات کی چادر ہے ، اور جو انسان وہ کھینچے گا ، وہ فلاں فلاں ہوگا "
بھئی میں کھینچتی نہیں ہوں، صرف تھام کے رکھتی ہوں ، کیوں کہ مجھے اسکی تمام صفات میں ، غرور کی صفت بہت پسند ہے ، میں نے اسے پہچانا ہی اس صفت سے ، وہی ،صرف وہی ، مجھے تکبر کرنے کے قابل لگتا ہے .. مجھے لگتا ہے، تکبر اس پہ واجب ہے ..
اوہ .. واجب ؟؟ ابّ تم نے بیلٹ اٹھا لینا ہے ، کہ واجب تو صرف انسان پہ ہوتا ہے ، خدا پہ نہیں ..
بھائی بیلٹ رکھو ، وہ نہیں سنی بات ، الله نے خود پہ اپنی رحمت "واجب" کررکھی ہے ؟؟
وہ کہتا ہے، مجھے ھر جگہ ساتھ ساتھ رکھو ، میں دسترخوان پہ اسے ساتھ بیٹھا لیتی ہوں ، بازار من چلتے وقت اسکی انگلی پکڑ لیتی ہوں .. کیا بے ادبی کرتی ہو ں ؟؟
آ جی . آپ کے محترم ذھن ، میں الله کی ذات، کوئی جاگیردار، یا کسی مزار کا کوئی پہنچا ہوا بزرگ ہے، جس کی "یاد" کا ہاتھ تھامنا ، پاس دسترخوان یا پہلو میں بیٹھنا ، گستاخی ہوجاے گی ؟؟
اگر ایسا ہے ، تو اکرم بخاری نے خوب ہی کہا تھا ، جس کی سمت ، جس کا قبلہ ہی غلط ہو، اسے کیا کہا جائے .. خدا کو سمجھننے کے لئے ٹھیک سمت کا اندازہ کیسے ہوگا ، اس کے لئے نعمان بخاری کے تصوف کے لیکچرز موجود ہیں .. ویسے یہ جو فیس بکی "بخارات" ہے نا ، بڑی پتہ کی بات کرتے ہیں ..
ان دونوں بخارات نے میری اور آپکی مشکل تحلیل کر دی . جس نے اپنی سمت پہ نظرثانی نہ کیا اور وہ لیکچرز نہ پڑھے، وہ "آگہیء ذات خدا" کے قیمتی سامان سے محروم رہا ..
مجھ کو خواہش ہی ڈھونڈنے کی نہ تھی ..
مجھ میں کھویا رہا،،، خدا میرا ..................!!
{[['']]}

ﮔﻨﺪﯼ ﻏﻠﯿﻆ ﻋﻮﺭﺕ ﺍﺑﻮ ﯾﺤﯿٰﯽ


ﮔﻨﺪﯼ ﻏﻠﯿﻆ ﻋﻮﺭﺕ ........ !!
ﺍﺷﺘﮩﺎﺭ ﻣﯿﮟ ﺍُﺱ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﯽ ﺗﺼﻮﯾﺮ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﻣﯿﺮﺍ ﺧﻮﻥ
ﮐﮭﻮﻝ ﺍﭨﮭﺎ۔ ﺑﮯﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﻣﯿﺮﯼ ﺯﺑﺎﻥ ﺳﮯ ﻧﮑﻼ ...
" ﮔﻨﺪﯼ ﻏﻠﯿﻆﻋﻮﺭﺕ ‘‘
, ﻭﮦ ﭘﻮﺭﮮ ﺟﻮﺵ ﺳﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﺎﺕ ﺑﯿﺎﻥ ﮐﺮﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ...
ﺟﺴﮯ ﻣﯿﮟ ﺧﺎﻣﻮﺷﯽ ﺳﮯ ﺳﻦ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﻣﮕﺮ ﺍﺱ ﺟﻤﻠﮯ ﮐﮯ
ﺑﻌﺪ ﻭﮦ ﻟﻤﺤﮧ ﺑﮭﺮ ﭨﮭﮩﺮﮮ ﺍﻭﺭ ﻣﺠﮭﮯ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺑﻮﻟﮯ ...
’’ ﭘﮭﺮ ﺍﭼﺎﻧﮏ ﻣﺠﮭﮯ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺗﺤﺮﯾﺮﻭﮞ ﮐﺎ ﺧﯿﺎﻝ ﺁﯾﺎﺍﻭﺭ ﺑﮯ
ﺳﺎﺧﺘﮧ ﻣﯿﺮﯼ ﺯﺑﺎﻥ ﺳﮯ ﻧﮑﻼ ...
ﭘﺮﻭﺭﺩﮔﺎﺭ ﺍﺳﮯ ﮨﺪﺍﯾﺖ ﺩﮮ۔
ﯾﮧ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎﻧﺘﯽ ﮐﮧ ﯾﮧ ﭼﻨﺪ ﭘﯿﺴﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﺭﮨﯽ ﮨﮯ۔ ‘‘
ﯾﮧ ﺻﺎﺣﺐ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺭﻭﯾﮯ ﻣﯿﮟ ﺁﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﺗﺒﺪﯾﻠﯽ ﮐﯽ ﺩﺍﺳﺘﺎﻥ ﺳﻨﺎﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﻣﻌﺎﺷﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﯿﻠﺘﮯ ﻓﻮﺍﺣﺶ ﺳﮯ ﯾﮧ ﺑﮩﺖ ﻧﺎﻻﮞ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮉﯾﺎ ﮐﻮ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺫﻣﮧ ﺩﺍﺭ ﺳﻤﺠﮭﺘ ﺗﮭﮯ۔
ﺟﺲ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﮐﺎ ﻭﮦ ﺫﮐﺮ ﮐﺮﺭﮨﮯﺗﮭﮯ ﻭﮦ ﻣﻠﮏ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ
ﻣﻌﺮﻭﻑ ﭨﯽ ﻭﯼ ﺍﺩﺍﮐﺎﺭﮦ ﺍﻭﺭ ﻣﺎﮈﻝ ﺗﮭﯽ۔ ﯾﮧ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﭨﯽ ﻭﯼ
ﭘﺮﻭﮔﺮﺍﻣﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺍﺷﺘﮩﺎﺭﺍﺕ ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺍﺗﯿﻦ ﮐﮯ ﻟﺒﺎﺱ ﮐﮯ
ﺣﻮﺍﻟﮯ ﺳﮯ ﮐﺌﯽ ﻧﺎﻣﻨﺎﺳﺐ ﺭﻭﯾﮯ ﻣﺘﻌﺎﺭﻑ ﮐﺮﺍﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﭘﯿﺶ
ﭘﯿﺶ ﺗﮭﯽ۔
ﺍﯾﮏ ﺷﺎﭘﻨﮓ ﺳﻨﭩﺮ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﺍﺷﺘﮩﺎﺭ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﻭﮨﯿﮟ ﻏﺼﮯ ﺍﻭﺭ ﺟﺬﺑﺎﺕ ﻣﯿﮟ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻣﻨﮧ ﺳﮯ ﻭﮦ ﺟﻤﻠﮧ ﻧﮑﻼ ﺟﻮ ﺷﺮﻭﻉ ﻣﯿﮟ ﻧﻘﻞ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ۔
ﺍﻥ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﻣﯿﮟ ﻭﻗﻔﮧ ﺁﯾﺎ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻭﺿﺎﺣﺖ ﭼﺎﮨﯽ ﮐﮧ
ﯾﮏ ﺑﯿﮏ ﺁﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﺍﺱ ﺗﺒﺪﯾﻠﯽ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﮐﯿﺎ ﺗﮭﯽ۔
ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ ..
’’ﺑﺎﺕ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﭘﮩﻠﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺳﺎﺑﻘﮧ ﺧﯿﺎﻻﺕ ﮐﮯ ﺗﺤﺖ
ﺍﯾﺴﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﺳﮯ ﻧﻔﺮﺕ ﮐﺮﺗﺎﺗﮭﺎ۔ ﻣﯿﮟ ﭘﻮﺭﮮ ﺩﯾﻨﯽ ﺟﺬﺑﮯ
ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﻥ ﮐﻮ ﺍﺳﻼﻡ ﺩﺷﻤﻦ ﺍﻭﺭ ﻗﺎﺑﻞ ﮔﺮﺩﻥ ﺯﺩﻧﯽ ﻗﺮﺍﺭ
ﺩﯾﺘﺎ ﺗﮭﺎ۔
ﻣﮕﺮ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺗﺤﺮﯾﺮﯾﮟ ﭘﮍﮪ ﮐﺮﺍﺣﺴﺎﺱ ﮨﻮﻧﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﻧﻔﺮﺕ ﺍﻟﻠﮧ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺭﺳﻮﻝ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﺎ ﻃﺮﯾﻘﮧ ﻧﮩﯿﮟ۔
ﯾﮩﺎﮞ ﺗﻮ ﺩﻋﻮﺕ ﺩﯼ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ۔
ﺗﺮﺑﯿﺖ ﮐﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ۔ ﺻﺤﯿﺢ ﺑﺎﺕ ﺑﺘﺎﺋﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ۔
ﻟﻮﮒ ﻧﮧ ﻣﺎﻧﯿﮟ ﺗﺐ ﺑﮭﯽ ﺍﻥ ﺳﮯ ﻣﺎﯾﻮﺱ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺍ ﺟﺎﺗﺎ۔ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ
ﺩﻋﺎ ﮐﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﻌﺎﻣﻠﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﭘﺮ ﭼﮭﻮﮌ ﺩﯾﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔ ‘‘
ﻭﮦ ﺍﯾﮏ ﻟﻤﺤﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺭﮐﮯ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﺑﻮﻟﮯ ...
’’ﻟﯿﮑﻦ ﻧﻔﺮﺕ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺳﺎﺭﯼ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮨﻮﮔﺌﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﺍﺱ
ﻟﯿﮯ ﻋﺎﺩﺕ ﭘﮍﭼﮑﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﯾﮩﯽ ﺍُﺱ ﺭﻭﺯ ﺑﮭﯽ ﮨﻮﺍ۔ﻣﯿﺮﮮ ﻣﻨﮧ
ﺳﮯ ﺑﮯ ﺳﺎﺧﺘﮧ ﮔﻨﺪﯼ ﻏﻠﯿﻆ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﮯ ﺍﻟﻔﺎﻅ ﻧﮑﻞ ﮔﺌﮯ۔
ﻣﮕﺮ ﺍﮔﻠﮯ ﻟﻤﺤﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﯾﮧ ﺳﺐ ﯾﺎﺩ ﺁﮔﯿﺎ۔ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ
ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﮐﮯ ﺣﻀﻮﺭ ﺍﺱ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺑﮩﺖ ﺩﻋﺎ ﮐﯽ۔ ‘‘
’’ ﭘﮩﻠﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﮐﯿﺎ ﻓﺮﻕ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ...?
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺩﺭﯾﺎﻓﺖ ﮐﯿﺎ۔
’’ ﻧﻔﺮﺕ ﮐﯽ ﻧﻔﺴﯿﺎﺕ ﺳﺐ ﺳﮯﺯﯾﺎﺩﮦ ﻣﺠﮭﮯ ﻧﻘﺼﺎﻥ
ﭘﮩﻨﭽﺎﺗﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﻭﮦ ﻣﯿﺮﮮ ﺟﺴﻢﺍﻭﺭ ﺩﻣﺎﻍ ﮐﻮ ﺗﻮ ﻧﻘﺼﺎﻥ
ﭘﮩﻨﭽﺎﺗﯽ ﮨﯽ ﺗﮭﯽ, ﻣﮕﺮ ﻣﯿﺮﮮ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﺑﮭﺴﻢ ﮐﺮﺭﮨﯽ
ﺗﮭﯽ۔
ﻣﺠﮭﮯ ﯾﮧ ﺑﺎﺕ ﭘﮩﻠﯽ ﺩﻓﻌﮧ ﺍﺱ ﺭﻭﺯ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮨﻮﺋﯽ۔
ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺟﺐ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﻧﻔﺮﺕﺁﻣﯿﺰ ﺟﻤﻠﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﺱ
ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺩﻋﺎ ﮐﺮﻧﯽ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﯽ ﺗﻮﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﺳﮯ
ﺍﺗﻨﯽ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻗﺮﺑﺖ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮐﯽ ﮐﮧ ﮐﭽﮫ ﺣﺪ ﻧﮩﯿﮟ۔
ﻣﺠﮭﮯ ﻟﮕﺎ ﮐﮧ ﻓﺮﺷﺘﻮﮞ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﭼﺎﺭﻭﮞ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﮔﮭﯿﺮ ﻟﯿﺎ ﮨﮯ۔
ﻣﺠﮭﮯ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﭘﮩﻠﯽ ﺩﻓﻌﮧ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ
ﺍﭘﻨﮯ ﺑﻨﺪﻭﮞ ﺳﮯ ﮐﺘﻨﯽ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔
ﺣﺘﯽٰ ﮐﮧ ﺟﻮ ﻟﻮﮒ ﺭﺏ ﮐﮯ ﻧﺎﻓﺮﻣﺎﻥ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ, ﺍﻥ ﮐﯽ ﻧﺎﻓﺮﻣﺎﻧﯽ ﮐﮯ ﺑﺎﻭﺟﻮﺩ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺑﮯ ﭘﻨﺎﮦ ﻣﺤﺒﺖ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ۔
ﻣﺠﮭﮯ ﭘﮩﻠﯽ ﺩﻓﻌﮧ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﯽ ﺩﻟﯽ ﮐﯿﻔﯿﺎﺕ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﺗﯽ ﺗﮭﯿﮟ۔ ﻭﮦ ﮐﺲ ﻃﺮﺡ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺗﮍﭘﺘﮯ ﺗﮭﮯ۔
ﻣﺠﮭﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﺘﮧ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﯼ ﺩﻋﺎ ﺳﮯ ﻭﮦ ﻟﮍﮐﯽ ﺭﺍﮦ ﺭﺍﺳﺖ ﭘﺮ
ﺁﺋﮯ ﮔﯽ ﯾﺎ ﻧﮩﯿﮟ۔ ﻣﮕﺮ ﺍﺱ ﺭﻭﺯ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﻟﻠﮧ, ﺍﺱ ﮐﮯ ﺭﺳﻮﻝ
ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻓﺮﺷﺘﻮﮞ ﮐﯽ ﻗﺮﺑﺖ ﮐﺎ ﺍﯾﺴﺎ ﺗﺠﺮﺑﮧ ﮐﯿﺎ ﺟﺲ
ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻣﺠﮭﮯ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮨﻮﮔﯿﺎ ﮐﮧ ﯾﮩﯽ ﺻﺤﯿﺢ ﺭﺍﺳﺘﮧ ﮨﮯ۔
ﯾﮩﯽ ﭘﯿﻐﻤﺒﺮﻭﮞ ﮐﺎ ﺭﺍﺳﺘﮧ ﮨﮯ۔
ﯾﮩﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﺎ ﭘﺴﻨﺪﯾﺪﮦ ﻃﺮﯾﻘﮧ
ﮨﮯ۔ ‘‘
ﻭﮦ ﭼﭗ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺁﭖ ﮐﺎ ﭘﺎﮐﯿﺰﮦ ﺗﺠﺮﺑﮧ ﺁﭖ
ﮐﻮ ﺑﮩﺖ ﻣﺒﺎﺭﮎ ﮨﻮ۔ ﻣﮕﺮ ﻣﯿﮟ ﺍﻃﻤﯿﻨﺎﻥ ﺩﻻﺗﺎ ﮨﻮﮞ ﮐﮧ ﻭﮦ
ﻟﮍﮐﯽ ﺑﮭﯽ ﺭﺍﮦ ﺭﺍﺳﺖ ﭘﺮ ﺁﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ۔ ﻭﮦ ﻧﮧ ﺑﮭﯽ ﺁﺋﮯ ﺗﻮ ﺁﭖ
ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﮐﺌﯽ ﺍﻭﺭ ﻟﮍﮐﯿﺎﮞ ﺍﺱ ﺭﺍﮦ ﭘﺮ ﭼﻠﻨﮯ ﺳﮯ ﺭﮎ
ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﯽ۔ ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﮐﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﻮ ﭘﮑﺎﺭﻧﺎ ﮐﺒﮭﯽ ﺿﺎﺋﻊ ﻧﮩﯿﮟ
ﺟﺎﺗﺎ۔
ﺍﺑﻮ ﯾﺤﯿٰﯽﮔﻨﺪﯼ ﻏﻠﯿﻆ ﻋﻮﺭﺕ ........ !!
ﺍﺷﺘﮩﺎﺭ ﻣﯿﮟ ﺍُﺱ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﯽ ﺗﺼﻮﯾﺮ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﻣﯿﺮﺍ ﺧﻮﻥ
ﮐﮭﻮﻝ ﺍﭨﮭﺎ۔ ﺑﮯﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﻣﯿﺮﯼ ﺯﺑﺎﻥ ﺳﮯ ﻧﮑﻼ ...
" ﮔﻨﺪﯼ ﻏﻠﯿﻆﻋﻮﺭﺕ ‘‘
, ﻭﮦ ﭘﻮﺭﮮ ﺟﻮﺵ ﺳﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﺎﺕ ﺑﯿﺎﻥ ﮐﺮﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ...
ﺟﺴﮯ ﻣﯿﮟ ﺧﺎﻣﻮﺷﯽ ﺳﮯ ﺳﻦ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﻣﮕﺮ ﺍﺱ ﺟﻤﻠﮯ ﮐﮯ
ﺑﻌﺪ ﻭﮦ ﻟﻤﺤﮧ ﺑﮭﺮ ﭨﮭﮩﺮﮮ ﺍﻭﺭ ﻣﺠﮭﮯ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺑﻮﻟﮯ ...
’’ ﭘﮭﺮ ﺍﭼﺎﻧﮏ ﻣﺠﮭﮯ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺗﺤﺮﯾﺮﻭﮞ ﮐﺎ ﺧﯿﺎﻝ ﺁﯾﺎﺍﻭﺭ ﺑﮯ
ﺳﺎﺧﺘﮧ ﻣﯿﺮﯼ ﺯﺑﺎﻥ ﺳﮯ ﻧﮑﻼ ...
ﭘﺮﻭﺭﺩﮔﺎﺭ ﺍﺳﮯ ﮨﺪﺍﯾﺖ ﺩﮮ۔
ﯾﮧ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎﻧﺘﯽ ﮐﮧ ﯾﮧ ﭼﻨﺪ ﭘﯿﺴﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﺭﮨﯽ ﮨﮯ۔ ‘‘
ﯾﮧ ﺻﺎﺣﺐ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺭﻭﯾﮯ ﻣﯿﮟ ﺁﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﺗﺒﺪﯾﻠﯽ ﮐﯽ ﺩﺍﺳﺘﺎﻥ ﺳﻨﺎﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﻣﻌﺎﺷﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﯿﻠﺘﮯ ﻓﻮﺍﺣﺶ ﺳﮯ ﯾﮧ ﺑﮩﺖ ﻧﺎﻻﮞ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮉﯾﺎ ﮐﻮ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺫﻣﮧ ﺩﺍﺭ ﺳﻤﺠﮭﺘ ﺗﮭﮯ۔
ﺟﺲ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﮐﺎ ﻭﮦ ﺫﮐﺮ ﮐﺮﺭﮨﮯﺗﮭﮯ ﻭﮦ ﻣﻠﮏ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ
ﻣﻌﺮﻭﻑ ﭨﯽ ﻭﯼ ﺍﺩﺍﮐﺎﺭﮦ ﺍﻭﺭ ﻣﺎﮈﻝ ﺗﮭﯽ۔ ﯾﮧ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﭨﯽ ﻭﯼ
ﭘﺮﻭﮔﺮﺍﻣﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺍﺷﺘﮩﺎﺭﺍﺕ ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺍﺗﯿﻦ ﮐﮯ ﻟﺒﺎﺱ ﮐﮯ
ﺣﻮﺍﻟﮯ ﺳﮯ ﮐﺌﯽ ﻧﺎﻣﻨﺎﺳﺐ ﺭﻭﯾﮯ ﻣﺘﻌﺎﺭﻑ ﮐﺮﺍﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﭘﯿﺶ
ﭘﯿﺶ ﺗﮭﯽ۔
ﺍﯾﮏ ﺷﺎﭘﻨﮓ ﺳﻨﭩﺮ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﺍﺷﺘﮩﺎﺭ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﻭﮨﯿﮟ ﻏﺼﮯ ﺍﻭﺭ ﺟﺬﺑﺎﺕ ﻣﯿﮟ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻣﻨﮧ ﺳﮯ ﻭﮦ ﺟﻤﻠﮧ ﻧﮑﻼ ﺟﻮ ﺷﺮﻭﻉ ﻣﯿﮟ ﻧﻘﻞ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ۔
ﺍﻥ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﻣﯿﮟ ﻭﻗﻔﮧ ﺁﯾﺎ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻭﺿﺎﺣﺖ ﭼﺎﮨﯽ ﮐﮧ
ﯾﮏ ﺑﯿﮏ ﺁﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﺍﺱ ﺗﺒﺪﯾﻠﯽ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﮐﯿﺎ ﺗﮭﯽ۔
ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ ..
’’ﺑﺎﺕ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﭘﮩﻠﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺳﺎﺑﻘﮧ ﺧﯿﺎﻻﺕ ﮐﮯ ﺗﺤﺖ
ﺍﯾﺴﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﺳﮯ ﻧﻔﺮﺕ ﮐﺮﺗﺎﺗﮭﺎ۔ ﻣﯿﮟ ﭘﻮﺭﮮ ﺩﯾﻨﯽ ﺟﺬﺑﮯ
ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﻥ ﮐﻮ ﺍﺳﻼﻡ ﺩﺷﻤﻦ ﺍﻭﺭ ﻗﺎﺑﻞ ﮔﺮﺩﻥ ﺯﺩﻧﯽ ﻗﺮﺍﺭ
ﺩﯾﺘﺎ ﺗﮭﺎ۔
ﻣﮕﺮ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺗﺤﺮﯾﺮﯾﮟ ﭘﮍﮪ ﮐﺮﺍﺣﺴﺎﺱ ﮨﻮﻧﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﻧﻔﺮﺕ ﺍﻟﻠﮧ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺭﺳﻮﻝ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﺎ ﻃﺮﯾﻘﮧ ﻧﮩﯿﮟ۔
ﯾﮩﺎﮞ ﺗﻮ ﺩﻋﻮﺕ ﺩﯼ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ۔
ﺗﺮﺑﯿﺖ ﮐﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ۔ ﺻﺤﯿﺢ ﺑﺎﺕ ﺑﺘﺎﺋﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ۔
ﻟﻮﮒ ﻧﮧ ﻣﺎﻧﯿﮟ ﺗﺐ ﺑﮭﯽ ﺍﻥ ﺳﮯ ﻣﺎﯾﻮﺱ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺍ ﺟﺎﺗﺎ۔ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ
ﺩﻋﺎ ﮐﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﻌﺎﻣﻠﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﭘﺮ ﭼﮭﻮﮌ ﺩﯾﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔ ‘‘
ﻭﮦ ﺍﯾﮏ ﻟﻤﺤﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺭﮐﮯ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﺑﻮﻟﮯ ...
’’ﻟﯿﮑﻦ ﻧﻔﺮﺕ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺳﺎﺭﯼ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮨﻮﮔﺌﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﺍﺱ
ﻟﯿﮯ ﻋﺎﺩﺕ ﭘﮍﭼﮑﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﯾﮩﯽ ﺍُﺱ ﺭﻭﺯ ﺑﮭﯽ ﮨﻮﺍ۔ﻣﯿﺮﮮ ﻣﻨﮧ
ﺳﮯ ﺑﮯ ﺳﺎﺧﺘﮧ ﮔﻨﺪﯼ ﻏﻠﯿﻆ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﮯ ﺍﻟﻔﺎﻅ ﻧﮑﻞ ﮔﺌﮯ۔
ﻣﮕﺮ ﺍﮔﻠﮯ ﻟﻤﺤﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﯾﮧ ﺳﺐ ﯾﺎﺩ ﺁﮔﯿﺎ۔ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ
ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﮐﮯ ﺣﻀﻮﺭ ﺍﺱ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺑﮩﺖ ﺩﻋﺎ ﮐﯽ۔ ‘‘
’’ ﭘﮩﻠﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﮐﯿﺎ ﻓﺮﻕ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ...?
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺩﺭﯾﺎﻓﺖ ﮐﯿﺎ۔
’’ ﻧﻔﺮﺕ ﮐﯽ ﻧﻔﺴﯿﺎﺕ ﺳﺐ ﺳﮯﺯﯾﺎﺩﮦ ﻣﺠﮭﮯ ﻧﻘﺼﺎﻥ
ﭘﮩﻨﭽﺎﺗﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﻭﮦ ﻣﯿﺮﮮ ﺟﺴﻢﺍﻭﺭ ﺩﻣﺎﻍ ﮐﻮ ﺗﻮ ﻧﻘﺼﺎﻥ
ﭘﮩﻨﭽﺎﺗﯽ ﮨﯽ ﺗﮭﯽ, ﻣﮕﺮ ﻣﯿﺮﮮ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﺑﮭﺴﻢ ﮐﺮﺭﮨﯽ
ﺗﮭﯽ۔
ﻣﺠﮭﮯ ﯾﮧ ﺑﺎﺕ ﭘﮩﻠﯽ ﺩﻓﻌﮧ ﺍﺱ ﺭﻭﺯ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮨﻮﺋﯽ۔
ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺟﺐ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﻧﻔﺮﺕﺁﻣﯿﺰ ﺟﻤﻠﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﺱ
ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺩﻋﺎ ﮐﺮﻧﯽ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﯽ ﺗﻮﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﺳﮯ
ﺍﺗﻨﯽ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻗﺮﺑﺖ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮐﯽ ﮐﮧ ﮐﭽﮫ ﺣﺪ ﻧﮩﯿﮟ۔
ﻣﺠﮭﮯ ﻟﮕﺎ ﮐﮧ ﻓﺮﺷﺘﻮﮞ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﭼﺎﺭﻭﮞ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﮔﮭﯿﺮ ﻟﯿﺎ ﮨﮯ۔
ﻣﺠﮭﮯ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﭘﮩﻠﯽ ﺩﻓﻌﮧ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ
ﺍﭘﻨﮯ ﺑﻨﺪﻭﮞ ﺳﮯ ﮐﺘﻨﯽ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔
ﺣﺘﯽٰ ﮐﮧ ﺟﻮ ﻟﻮﮒ ﺭﺏ ﮐﮯ ﻧﺎﻓﺮﻣﺎﻥ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ, ﺍﻥ ﮐﯽ ﻧﺎﻓﺮﻣﺎﻧﯽ ﮐﮯ ﺑﺎﻭﺟﻮﺩ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺑﮯ ﭘﻨﺎﮦ ﻣﺤﺒﺖ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ۔
ﻣﺠﮭﮯ ﭘﮩﻠﯽ ﺩﻓﻌﮧ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﯽ ﺩﻟﯽ ﮐﯿﻔﯿﺎﺕ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﺗﯽ ﺗﮭﯿﮟ۔ ﻭﮦ ﮐﺲ ﻃﺮﺡ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺗﮍﭘﺘﮯ ﺗﮭﮯ۔
ﻣﺠﮭﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﺘﮧ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﯼ ﺩﻋﺎ ﺳﮯ ﻭﮦ ﻟﮍﮐﯽ ﺭﺍﮦ ﺭﺍﺳﺖ ﭘﺮ
ﺁﺋﮯ ﮔﯽ ﯾﺎ ﻧﮩﯿﮟ۔ ﻣﮕﺮ ﺍﺱ ﺭﻭﺯ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﻟﻠﮧ, ﺍﺱ ﮐﮯ ﺭﺳﻮﻝ
ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻓﺮﺷﺘﻮﮞ ﮐﯽ ﻗﺮﺑﺖ ﮐﺎ ﺍﯾﺴﺎ ﺗﺠﺮﺑﮧ ﮐﯿﺎ ﺟﺲ
ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻣﺠﮭﮯ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮨﻮﮔﯿﺎ ﮐﮧ ﯾﮩﯽ ﺻﺤﯿﺢ ﺭﺍﺳﺘﮧ ﮨﮯ۔
ﯾﮩﯽ ﭘﯿﻐﻤﺒﺮﻭﮞ ﮐﺎ ﺭﺍﺳﺘﮧ ﮨﮯ۔
ﯾﮩﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﺎ ﭘﺴﻨﺪﯾﺪﮦ ﻃﺮﯾﻘﮧ
ﮨﮯ۔ ‘‘
ﻭﮦ ﭼﭗ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺁﭖ ﮐﺎ ﭘﺎﮐﯿﺰﮦ ﺗﺠﺮﺑﮧ ﺁﭖ
ﮐﻮ ﺑﮩﺖ ﻣﺒﺎﺭﮎ ﮨﻮ۔ ﻣﮕﺮ ﻣﯿﮟ ﺍﻃﻤﯿﻨﺎﻥ ﺩﻻﺗﺎ ﮨﻮﮞ ﮐﮧ ﻭﮦ
ﻟﮍﮐﯽ ﺑﮭﯽ ﺭﺍﮦ ﺭﺍﺳﺖ ﭘﺮ ﺁﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ۔ ﻭﮦ ﻧﮧ ﺑﮭﯽ ﺁﺋﮯ ﺗﻮ ﺁﭖ
ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﮐﺌﯽ ﺍﻭﺭ ﻟﮍﮐﯿﺎﮞ ﺍﺱ ﺭﺍﮦ ﭘﺮ ﭼﻠﻨﮯ ﺳﮯ ﺭﮎ
ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﯽ۔ ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﮐﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﻮ ﭘﮑﺎﺭﻧﺎ ﮐﺒﮭﯽ ﺿﺎﺋﻊ ﻧﮩﯿﮟ
ﺟﺎﺗﺎ۔
ﺍﺑﻮ ﯾﺤﯿٰﯽ
{[['']]}

ٹیلی ویژن میزبانی کے رہنما اصول مستنصر حسین تارڑ

جیسے یکدم کوئی فیشن چل نکلتا ہے….ہر نوجوان ایم بی اے کرنے لگتا ہے…. ہر لڑکی ڈھیلے ڈھالے پاجامے پہننے لگتی ہے …. ہر بوڑھا دوسری شادی کرنے کے بارے میں سوچنے لگتا ہے،
بالکل ایسے ہی ان دنوں ٹیلی ویژن میزبان بن جانے کا رواج نہایت پاپولر ہو گیا ہے…
ایک صاحب کا کہنا ہے کہ سوائے میرے سبزی والے اللہ رکھا کے اور دودھ والے دین پناہ کے ہر شخص ٹیلی ویژن پر میزبانی کے فرائض سرانجام دینے لگا ہے…
کوئی دن جاتا ہے جب اللہ رکھا اور دین پناہ بھی کسی کُکنگ شو کی میزبانی کر رہے ہوں گے...
چونکہ میڈیا پر میزبانی سے میرا بھی جائز تعلق رہا ہے اس لئے آئے دن میزبان بننے کے شائق نوجوان اور لڑکیاں مجھ سے رابطہ کرتے رہتے ہیں تا کہ اس سلسلے میں ان کی کچھ رہنمائی کروں اور انہیں میزبانی کے رموز اور خفیہ نسخے بتا کر ان کا مستقبل درخشاں کردوں...
پچھلے زمانوں میں ٹیلی ویژن میزبان ایک ہی قسم کا ہوا کرتا تھا…. خالص اردو اور پنجابی میں بات کرتا تھا، انگریزی کو پاس نہیں پھٹکنے دیتا تھا کہ اس کی انگریزی صرف ” گڈبائے اور بائے بائے ” تک محدود ہوتی تھی….
موقع ہو نہ ہو اپنی تقریر دل پذیر میں شعر ٹانکتا جاتا تھا…. مہمانوں کی عزت کرتا تھا اور پورے پروگرام کے دوران وہ ایک ناراض ریچھ کی مانند نظر آتا تھا قطعی طور پر مسکراتا نہ تھا اور ایک افلاطون کی مانند باتیں کرتا تھا….
یہی میزبان مختلف شوز کی میزبانی کرتا تھا….
سائنس، موسیقی ، زراعت وغیرہ کے شوز کے علاوہ میلہ مویشیاں کی میزبانی بھی سہولت سے کرلیتا تھا….
لیکن موجودہ دور میں صورت حال یکسر بدل چکی ہے….
ان دنوں ٹیلی ویژن میزبانوں کی متعدد اقسام رائج ہیں….
ان میں سرفہرست تو حالات حاضرہ کے پروگراموں کے میزبان ہیں….
انہیں آپ سیاسی میزبان کہہ سکتے ہیں….
اس نوعیت کی میزبانی کا سنہری اصول یہ ہے کہ آپ برسراقتدار پارٹی اور اپوزیشن کی پارٹیوں کے ارکان کو اپنے سامنے بٹھالیں اور ان سے صرف پوچھیں کہ ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں….
آپ کا سوال ابھی ختم نہیں ہوگا کہ وہ مشترکہ طور پر غُل مچانے لگیں گے….
اپنی اپنی پارٹیوں کے حق میں دلائل کی بوچھاڑ کر دیں گے…. اور جب آپ انہیں صبر کی تلقین کریں گے تو وہ مزید سیخ پا ہو جائیں گے کہ میزبان صاحب آپ ہمیں اپنا نکتہ نظر بیان کرنے دیں….
یہ وہ لمحہ ہے جب آپ نے اپنی کرسی سے ٹیک لگا کر آرام سے بیٹھ جانا ہے، آپ نے چپ بیٹھے رہنا ہے، صرف کبھی کبھار اپنی عینک درست کرنی ہے اور ہاں ایک بیوقوفانہ سی مسکراہٹ ہونٹوں پر سجائے رکھنا ہے….
آپ کے مہمان پورے پروگرام میں شور مچاتے رہیں گے، ایک دوسرے کے لتے لیتے رہیں گے اور اگر ان میں کوئی خاتون شامل نہیں ہے تو ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچتے رہیں گے….
اگر آپ یہ چاہتے ہیں کہ آپ کا پروگرام مزید ہنگامہ خیز ہو تو پروگرام کے آغاز سے پیشتر مہمانوں کی میز پر اور ایک دو گلدان بھی رکھ دیں….
تا کہ جب وہ طیش میں آجائیں تو جمہوری روایات کی پاسداری کرتے ہوئے یہ گلدان ایک دوسرے کی جانب اچھالتے جائیں...
جب پروگرام اختتام کو پہنچے تو آپ نے نہایت دکھ بھری شکل بنا کر کیمرے کی جانب دیکھتے ہوئے محب الوطنی اور قومی سلامتی کے حوالے سے ایک رقت آمیز تقریر کرنی ہے اور کہنا ہے کہ خواتین و حضرات کون کہتا ہے کہ ہم ایک زندہ قوم نہیں ہیں….
اپنے وطن کیلئے قربانی نہیں دے سکتے….
آج کے پروگرام میں ثابت ہو گیا ہے کہ ہمارے لیڈران کتنے پرجوش اور جذباتی ہیں…. یہ اپنے وطن کیلئے کچھ بھی کر سکتے ہیں….
فی الحال مجھے اجازت دیجئے..
ٹیلی ویژن میزبانی کے رہنما اصول
مستنصر حسین تارڑ
{[['']]}

Download Farnood By Joun Elia

Book Title: Farnood
Author Name: Joun Elia
Book Type: Urdu Novel
Urdu Title: فرنود جون ایلیا
Price: Free
DownloadFarnood
Format: PDF



Note: All urdu novels and urdu Poetry books available in PDF format Imran series download and Islamic book Historical kutab free any time don't forget to bookmark http://www.urdupunch.co.vu
feedback requerd 
{[['']]}

Download Mujahideen E Ghazwa E Hind Zaid Hamid

Book Title: Mujahideen E Ghazwa E Hind
Author Name: Zaid Hamid
Book Type: Urdu Historical Novel
Urdu Title: مجاہدین غزوہ ہند زید حامد
Price: Free
DownloadClick Here
Format: PDF



Note: All urdu novels and urdu Poetry books available in PDF format Imran series download and Islamic book Historical kutab free any time don't forget to bookmark http://www.urdupunch.co.vu
feedback requerd 
{[['']]}

Download Shayad By Joun Elia

Book Title: Shayad
Author Name: Joun Elia
Book Type: Urdu Poetry
Urdu Title: شاید جون ایلیا
Price: Free
Download: Click Here
Format: PDF



Note: All urdu novels and urdu Poetry books available in PDF format Imran series download and Islamic book free any time don't forget to bookmark http://www.urdupunch.co.vu
feedback requerd 
{[['']]}

Followers

 
Support : Creating Website | Johny Template | Mas Template
Copyright © 2011. UrduPunch - All Rights Reserved
Template Created by Creating Website Published by Mas Template
Proudly powered by Blogger