Latest Books :
Recent Books

Bad Nazri Ke 14 Nuqsanat by Hakeem Muhammad Akhtar

Title: Bad Nazri Ke 14 Nuqsanat
Author: Hakeem Muhammad Akhtar
Format: PDF
Price: Free
Type: Islamic Book
Urdu Title: بد نظری کے چودہ نقصانات
Download: click here



Note: All urdu novels and urdu books available in PDF format Imran series download and Islamic books free any time don't forget to bookmark http://www.urdupunch.co.vu
feedback requerd 
{[['']]}

ﺣﯿﺎﺗﮧ ﺍﻟﺼﺤﺎﺑﮧ اقتباس

ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﺍﻣﯿﺮ ﺍﻟﻤﻮﻣﻨﯿﻦ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﺑﻮﺑﮑﺮ ﺻﺪﯾﻖ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ' ﻋﻨﮧ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﮐﮭﺎ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺁﭖ ﮐﺎ ﺩﻝ ﮐﺴﯽ ﻣﯿﭩﮭﯽ ﭼﯿﺰ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﮐﻮ ﭼﺎﮨﺎ ...
ﺁﭖ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺯﻭﺟﮧ ﺻﺎﺣﺒﮧ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ...
" ﮐﯿﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﯿﭩﮭﯽ ﭼﯿﺰ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ?.. "
ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ ...
"ﺑﯿﺖ ﺍﻟﻤﺎﻝ ﺳﮯ ﺟﻮ ﺭﺍﺷﻦ ﺁﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﻣﯿﭩﮭﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﭼﯿﺰ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﯽ "..
ﺁﭖ ﺳﻦ ﮐﺮ ﭼﭗ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ ...
ﭼﻨﺪ ﺩﻥ ﺑﻌﺪ ﺁﭖ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ' ﻋﻨﮧ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ
ﺩﺳﺘﺮﺧﻮﺍﻥ ﭘﺮ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺣﻠﻮﮦ ﺑﮭﯽ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﮯ ...
ﺁﭖ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺯﻭﺟﮧ ﺻﺎﺣﺒﮧ ﺳﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ...
" ﺗﻢ ﻧﮯ ﺗﻮ ﮐﮩﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺭﺍﺷﻦ ﻣﯿﮟ ﻣﯿﭩﮭﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﭼﯿﺰ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺗﯽ ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﺁﺝ ﯾﮧ ﺣﻠﻮﮦ ﮐﯿﺴﮯ ﺑﻦ ﮔﯿﺎ ؟..ﺁﭖ ﮐﯽ ﺯﻭﺟﮧ ﻣﺤﺘﺮﻣﮧ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ...
" ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺟﻮ ﺍﺱ ﺩﻥ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﺁﭖ ﮐﻮ ﻣﯿﭩﮭﯽ ﭼﯿﺰ ﮐﯽ ﺧﻮﺍﮬﺶ ﮬﮯ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﯾﻮﮞ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﺭﺍﺷﻦ ﻣﯿﮟ ﺟﺘﻨﺎ ﺁﭨﺎ ﺭﻭﺯﺍﻧﮧ ﺁﺗﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﻣﭩﮭﯽ ﺑﮭﺮ ﺁﭨﺎ ﺍﻟﮓ ﺭﮐﮭﺘﯽ ﺗﮭﯽ ...
ﺁﺝ ﺍﺗﻨﺎ ﺁﭨﺎ ﺟﻤﻊ ﮬﻮ ﮔﯿﺎ ﮐﮧ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﺪﻟﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺑﺎﺯﺍﺭ ﺳﮯ ﮐﺠﮭﻮﺭ ﮐﺎ ﺷﯿﺮﮦ ﻣﻨﮕﻮﺍﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﯾﮧ ﺣﻠﻮﮦ ﺗﯿﺎﺭ ﮐﯿﺎ ...
"ﺁﭖ ﻧﮯ ﺣﻠﻮﮦ ﺗﻨﺎﻭﻝ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺯﻭﺟﮧ ﺻﺎﺣﺒﮧ ﮐﺎ ﺷﮑﺮﯾﮧ ﺍﺩﺍ ﮐﯿﺎ ...
ﮐﮭﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺁﭖ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ' ﻋﻨﮧ ﺳﯿﺪﮬﮯ ﺑﯿﺖ ﺍﻟﻤﺎﻝ ﮐﮯ ﻣﮩﺘﻤﻢ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﭘﮩﻨﭽﮯ ﺍﻭﺭ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ...
" ﮬﻤﺎﺭﮮ ﮬﺎﮞ ﺭﺍﺷﻦ ﻣﯿﮟ ﺟﺲ ﻗﺪﺭ ﺁﭨﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮬﮯ ﺁﺝ ﺳﮯ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﻣﭩﮭﯽ ﮐﻢ ﮐﺮﺩﯾﻨﺎ ... ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﮬﻔﺘﮧ ﺑﮭﺮ ﮐﮯ ﺗﺠﺮﺑﮯ ﻧﮯ ﺑﺘﺎﯾﺎ ﮬﮯ ﮐﮧ ﮬﻤﺎﺭﺍ ﮔﺰﺍﺭﮦ ﻣﭩﮭﯽ ﺑﮭﺮ ﮐﻢ ﺁﭨﮯ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﮬﻮ ﺟﺎﺗﺎ ﮬﮯ ... "
 ﺣﯿﺎﺗﮧ ﺍﻟﺼﺤﺎﺑﮧ
{[['']]}

Ferouz Ul Lughaat Dictionary

Title: Ferouz Ul Lughaat
Price: Free
Type: Urdu Lughaat
Urdu Title: اردو فیروزاللغات
Download: click here

urdu to urdu translation lughaat book dictionary pdf book

Note: All urdu novels and urdu books available in PDF format Imran series download and Islamic books free any time don't forget to bookmark http://www.urdupunch.co.vu
feedback requerd 
{[['']]}

عمیرا احمد کے ناول ’’پیر کامل‘‘ سے اقتباس

میری خواہش ہے بابا‘‘اس نے زیر لب کہا کہ زندگی میں ایک بار میں آپ کے سامنے آؤں اور آپ کو بتاؤں کہ دیکھ لیجئے، میرے چہرے پر کوئی ذلت، کوئی رسوائی نہیں ۔ میرے اللہ اور میرے پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میری حفاظت کی ۔ مجھے دنیا کے لئے تماشا نہیں بنایا، نہ دنیا میں بنایا ہے نہ ہی آخرت میں میں کسی رسوائی کا سامنا کروں گی اور میں آج اگر یہاں موجود ہوں تو صرف اس لئے کیونکہ میں سیدھے راستے پر ہوں اور یہاں بیٹھ کر میں ایک بار پھر اقرار کرتی ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے آخری رسول ہیں۔ ان کے بعد کوئی پیغمبر آیا ہے نہ ہی کبھی آئے گا ۔ میں اقرار کرتی ہوں کہ وہی پیر کامل ہیں۔ میں اقرار کرتی ہوں کہ ان سے کامل ترین انسان دوسرا کوئی نہیں۔ ان کی نسل میں بھی کوئی ان کے برابر آیا ہے نہ ہی کبھی آئے گا اور میں اللہ سے دعا کرتی ہوں کہ وہ مجھے آنے والی زندگی میں بھی کبھی اپنے ساتھ شرک کروائے نہ ہی مجھے آخری پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے برابر کسی کو لاکھڑا کرنے کی جرات ہو۔ میں دعا کرتی ہوں کہ اللہ زندگی بھر مجھے سیدھے راستے پر رکھے۔ بے شک میں اس کی کسی نعمت کو نہیں جھٹلا سکتی۔
عمیرا احمد کے ناول ’’پیر کامل‘‘ سے اقتباس
{[['']]}

اردو ادب تحریر

اصفہان میں ایک بہت دولت مند شخص رھتا تھا جسے اللہ نے دنیاوی مال و دولت سے ایسا نوازا تھا جس کی کوئی حد نہیں تھی، مگر وہ ھمیشہ غمگین و پریشان رھتا تھا۔ تردّد ھمیشہ اُس کے چہرے سے ٹپکتا تھا۔ 
اُس کے گھر میں ایک ملازم تھا جو غریب ھونے کے باوجود ھمیشہ خوش رھتا تھا اور اُس کے چہرے پر کبھی کسی نے ملال کا شائبہ تک نہیں دیکھا تھا۔
ایک دن اپنے مالک کو بہت زیادہ غم میں غلطاں پایا تو اُس کے پاس گیا اور کہنے لگا؛
ۤ"جناب کیا یہ حقیقت نہیں ھے اللہ تعالیٰ ھم سب کے دنیا میں آنے سے پہلے موجود تھا؟"
مالک نے جواب دیا؛ "بلا شک و شبہ۔"
"اور کیا یہ بھی حقیقت نہیں ھے کہ جب ھم سب فنا ھو جائیں گے تو وہ پاک ذات پھر بھی موجود رھے گی؟"
"بالکل"
"پھر آپ کیوں پریشان رھتے ھیں؟ وہ آپ سے پہلے بھی دنیا کو بہ حُسن و خوبی چلا رھا تھا اور آپ کے بعد بھی چلاتا رھے گا۔ تو آپ کی زندگی میں بھی چلاتا رھے گا۔ آپ کیوں اپنے آپ کو فکر میں ھلکان کئے دیتے ھیں؟ ھم صرف کوشش کر سکتے ھیں اور نتیجہ ھمیں اللہ پر چھوڑ دینا چاھیئے۔ آپ اللہ پر توکّل کر کے دیکھ لیں کہ زندگی کتنی آسان ھو جاتی ھے۔ اللہ کے احکامات کو خاموشی سے سنیں اور جتنا ھو سکے اُس پر عمل کریں۔ اِس دنیا میں بھی فکر و وسوسہ آپ کے نزدیک نہیں پھٹکے گا اور آخرت بھی سنور جائے گی۔ یہ ساری دنیا فانی ھے اور فانی شے پر فکر کرنا اور پریشان ھونا انسان کو زیب ھی نہیں دیتا۔ فکر ھی کرنی ھے تو اُس پروردگار کی کریں ھمیشہ رھنے والا ھے اور جس کو کسی قسم کا زوال نہیں ھے۔"
ملازم نے جب سر اُٹھا کر اپنے مالک کی آنکھوں میں جھانکا تو اُس میں تشکـر کے آنسو جھلملا رھے تھے اور اُس کا چہرہ اطمینان سے دمک رھا تھا۔
حکایاتِ حکیمانہ سے اقتباس
{[['']]}

What وٹ

وٹ - What؟
::::::::::::::::
ایک انگریز کو پنجابی سیکھنے کا بہت شوق تھا۔ کسی نے اسے بتایا کہ 136 چک کے قدیم بزرگ پنجابی کی تعلیم دیتے ہیں۔
ایک دن انگریز نے بس پر سوار ہو کر 136 چک کی راہ لی۔ بس نے اسے جس جگہ اتارا چک وہاں سے ایک گھنٹے کی پیدل مسافت پر تھا۔ انگریز بس سے اتر کر چک کی طرف چل پڑا۔تھوڑی دور ہی گیا تھا کہ اس نے ایک کسان کو فصل کاٹ کر اس کے گٹھے بناتے دیکھا۔انگریز نے پوچھا: oh man تم یہ کیا کرتا؟کسان نے جواب دیا: گورا صاب! ہم فصل وٹتا۔انگریز بولا: oh man تم crop کرنا کو what بولتا۔انگریز آگے چل دیا۔ آگے ایک شخص چارپائی کا وان وٹ رہا تھا۔انگریز نے پوچھا: oh man تم یہ کیا کرتا؟اس آدمی نے جواب دیا: گورا صاب! ہم وان وٹتا۔انگریز بولا: oh man تم twist کرنا کو what بولتا۔انگریز اس شخص کو چھوڑ کر آگے چلا تو کیا دیکھتا ہے کہ ایک دکاندار اداس بیٹھا ہے۔انگریز نے پوچھا: oh man تم اداس کیوں بیٹھا؟دکاندار بولا: گورا صاب! سویر دا کج وی نئیں وٹیا۔انگریز بولا: oh man تم earning کو what بولتا۔انگریز اسے چھوڑ کر کچھ اور آگے چلا تو ایک شخص کو دیکھا جو پریشانی کے عالم میں آسمان کی طرف دیکھ رہا تھا۔انگریز نے پوچھا: oh man کیا ہوا؟وہ شخص بولا: گورا صاب اج موسم بڑا وٹ ہے۔انگریز بولا: oh man تم humidity کو what بولتا۔انگریز اسے چھوڑ کر آگے چلا۔ سامنے چودھری کا بیٹا کلف لگے کپڑے پہنے چلا آ رہا تھا۔ انگریز اس سے گلے ملنے کے لئے آگے بڑھا۔وہ لڑکا بولا: گورا صاب! ذرا آرام نال، کپڑیاں نوں وٹ ناں پا دینا۔انگریز بولا: oh man تم wrinkles کو what بولتا۔کچھ آگے جا کر انگریز کو ایک شخص پریشانی کے عالم میں لوٹا پکڑے کھیتوں کی طرف بھاگتا ہوا نظر آیا۔انگریز نے کہا: oh man ذرا بات تو سنو۔وہ شخص بولا: گورا صاب واپس آ کر سنتا ہوں، بڑے زور دا وٹ پیا اے۔انگریز بولا: oh man تم loose motion کو what بولتا۔تھوڑا آگے جانے پر انگریز کو ایک بزرگ حقہ پکڑے سامنے سے آتا دکھائی دیا۔قریب آنے پر انگریز نے پوچھا: oh man یہ 136 چک کتنی دور ہے؟وہ بولا: وٹو وٹ ٹری جاؤ، زیادہ دور نئیں اے۔انگریز بولا: oh man تم path کو what بولتا۔آگے چلا تو کیا دیکھا کہ دو آدمی آپس میں بری طرح لڑ رہے ہیں۔گورا لڑائی چھڑانے کے لئے آگے بڑھا تو ان میں سے ایک بولا: گورا صاب تسی وچ نہ آؤ میں اج ایدھے سارے وٹ کڈ دیاں گا۔انگریز بولا oh man تم immorality کو what بولتا۔انگریز نے لڑائی بند کرانے کی غرض سے دوسرے آدمی کو سمجھانے کی کوشش کی تو وہ بولا: او جان دیو بادشاؤ، مینوں تے آپ ایدھے تے بڑا وٹ اے۔انگریز بولا: oh man تم anger کو what بولتا۔قریب ایک آدمی کھڑا لڑائی دیکھ رہا تھا۔وہ بولا: گورا صاب! تسی اینوں لڑن دیو ,ایدھے نال پنگا لتا تے تہانوں وی وٹ کے چپیڑ کڈ مارے گا۔انگریز بولا: oh man تم fighting کو what بولتا۔لاچار انگریز آگے چل دیا۔ تھوڑی دور گیا تو کیا دیکھا کہ ایک شخص گم سم بیٹھا ہے۔انگریز نے پوچھا: یہ آدمی کس سوچ میں ڈوبا ہے؟جواب ملا: گورا صاب! یہ بڑا میسنا ہے، یہ دڑ وٹ کے بیٹھا ہے۔انگریز بولا: oh man تم silent کو what بولتا۔بالآخر انگریز نے یہ کہتے ہوئے واپسی کی راہ لی:
What a comprehensive language, I can never learn it in my short life..!!
{[['']]}

دکھ


دکھ
کوئی عورت ساری رات اپنے شوهر سے مار کھا کے اب کسی کے گھر میں صفائی کر رهی هو گی اور اُس گھر کا مالک اُس کو گھور رها هو گا.
دکھ
کسی مدرسے میں سالوں سے دور کوئی بچہ کسی کونے میں بیٹھا اپنی ماں کو یاد کر رها ھو گا اور هچکیاں لیتے رو رها هو گا.
دکھ
کسی سکول میں کوئی بچی آج بھی سکول فیس نہ هونے سبب کلاس سے باهر کھڑی هو گی اور اُس کے آنسو اُس کی روح میں جذب هو رهے هوں گے.
دکھ
کہیں کوئی اپنے صحن میں اپنے پیارے کا جنازہ لئے بیٹھا ھو گا اور اُس سے لپٹ کے خود کو یقین دلا رها هو گا کہ یہ خواب هے.
دکھ
کہیں دور کسی صحرا میں کوئی ریت پہ زبان پھیر کے موت سے لڑ رها ھو گا اور سوچ رها هو گا کہ کہیں کوئی اُس کے حال کو جانتا تک نہ ھو گا.
دکھ
کہیں جیل میں کوئی پردیسی کسی ناکردہ جرم میں سسکتے هوئے اپنوں کے چہروں کو ڈھونڈ رها هو گا اور سوچ رها هو گا کہ اُس کی فاتحہ بھی نہ هو گی.
دکھ
کہیں دور کسی ایمرجنسی میں اپنے باپ کے سرهانے کھڑا بچہ اپنی شفقت کا سایہ سر سے اٹھتے دیکھ رها هو گا.
دکھ
اس وقت بھی کسی گاوُں کی ڈسپنسری میں کوئی ماں اپنے لخت جگر کا سر گود میں رکھے اُس کی زندگی کی سانسیں گن رهی هو گی.
دکھ
کہیں کوئی بھوک سے بلک رها ھو گا اور کہیں کوئی درد سے چیخ رها هو گا.
خدا کی تقسیم بھی عجیب هے
کہ اسی کا نام نصیب هے
دکھ
دکھ انسان کے اندر بس جاتے ھیں اور پھر وہ انسان اس قدر گہرا هو جاتا هے، کہ کنکر بھی پھینکو تو آواز باهر نہیں آتی بلکہ سناٹا مزید بڑھ جاتا ھے.
{[['']]}

Khoaf E Khuda by Mohiuddin Nawab

Title: Khoaf E Khuda
Author: Mohiuddin Nawab
Format: PDF
Price: Free
Type: Urdu Novel
Urdu Title: خوف خدا محی دین نواب
Download: click here



Note: All urdu novels and urdu books available in PDF format Imran series download and Islamic books free any time don't forget to bookmark http://www.urdupunch.co.vu
feedback requerd 
{[['']]}

Followers

 
Support : Creating Website | Johny Template | Mas Template
Copyright © 2011. UrduPunch - All Rights Reserved
Template Created by Creating Website Published by Mas Template
Proudly powered by Blogger