Latest Books :
Recent Books
   

آخری سیلیوٹ سعادت حسن منٹو افسانہ

آخری سیلیوٹ
(سعادت حسن منٹو)
یہ کشمیر کی لڑائی بھی کچھ عجیب و غریب تھی۔ صوبیدار رب نواز کا دماغ ایسی بندوق بن گیا تھا جس کا گھوڑا خراب ہو گیا ہو۔
پچھلی بڑی جنگ میں وہ کئی محاذوں پر لڑ چکا تھا۔ مارنا اور مرنا جانتا تھا۔ چھوٹے بڑے افسروں کی نظر میں اسکی بڑی توقیر تھی، اس لیے کہ وہ بڑا بہادر، نڈر اور سمجھدار سپاہی تھا۔ پلاٹون کمانڈر مشکل کام ہمیشہ اسے ہی سونپتے تھے اور وہ ان سے عہدہ برآہوتا تھا۔ مگر اس لڑائی کا ڈھنگ ہی نرالا تھا۔ دل میں بڑا ولولہ، بڑا جوش تھا۔ بھوک پیاس سے بے پرواہ صرف ایک ہی لگن تھی دشمن کا صفایا کر دینے کی، مگر جب اس سے سامنا ہوتا تو کچھ جانی پہچانی صورتیں نظر آتیں۔ بعض دوست نظر آتے، بڑے بغلی قسم کے دوست جو پچھلی لڑائی میں اس کے دوش بدوش، اتحادیوں کے دشمن سے لڑے تھے، پر اب جان کے پیاسے بنے ہوئے تھے۔
صوبیدار رب نواز سوچتا تھا کہ یہ سب خواب تو نہیں۔ پچھلی بڑی جنگ کا اعلان۔ ۔ ۔ بھرتی، قد اور چھاتیوں کی پیمائش، پی ٹی، چاند ماری اور پھر محاذ۔ ۔ ۔ ادھر سے اُدھر، اُدھر سے ادھر، آخر جنگ کا خاتمہ۔ ۔ ۔ پھر ایک دم پاکستان کا قیام اور ساتھ ہی کشمیر کی لڑائی۔ اوپر تلے کتنی چیزیں۔ رب نواز سوچتا تھا کہ کرنے والے نے یہ سب کچھ سوچ سمجھ کر کیا ہے تا کہ دوسرے بوکھلا جائیں اور سمجھ نہ سکیں۔ ورنہ یہ بھی کوئی بات تھی کہ اتنی جلدی اتنے بڑ ے انقلاب برپا ہو جائیں۔
اتنی بات تو صوبیدار رب نواز کی سمجھ میں آ تی تھی کہ وہ کشمیر حاصل کرنے کیلئے لڑ رہے ہیں۔ کشمیر کیوں حاصل کرنا ہے، یہ بھی وہ اچھی طرح سمجھتا تھا۔ اس لیے کہ پاکستان کی بقا ء کیلئے اسکا الحاق اشد ضروری ہے، مگر نشانہ باندھتے ہوئے جب اسے کوئی جانی پہچانی شکل نظر آجاتی تھی تو وہ کچھ دیر کیلئے بھول جاتا تھا کہ وہ کس غرض کیلئے لڑ رہا ہے، کس مقصد کیلئے اس نے بندوق اُٹھائی ہے۔ اور وہ یہ غالباً اسی لیے بھولتا تھا کہ اسے بار بار خود کو یاد کروانا پڑتا تھا کہ اب کے وہ صرف تنخواہ، زمین کے مربعوں اور تمغوں کیلئے نہیں بلکہ اپنے مُلک کی خاطر لڑ رہا ہے۔ یہ وطن پہلے بھی اسکا وطن تھا، وہ اسی علاقے کا رہنے والا تھا جو اب پاکستان کا ایک حصّہ بن گیا تھا۔ اب اسے اپنے اسی ہم وطن کے خلاف لڑنا تھا جو کبھی اسکا ہمسایہ ہوتا تھا۔ جس کے خاندان سے اس کے خاندان کے پشت ہا پشت کے دیرینہ مراسم تھے۔ اب اسکا وطن وہ تھا جس کا پانی تک اس نے کبھی نہیں پیا تھا، پر اب اس کی خاطر، ایک دم اس کے کاندھے پر بندوق رکھ کر یہ حُکم دے دیا گیا تھا کہ جاؤ، یہ جگہ جہاں ابھی تم نے اپنے گھر کیلئے دو اینٹیں بھی نہیں چُنیں‘جس کی ہوا اور جس کے پانی کا مزا ابھی تک تمہارے منہ میں ٹھیک طور نہیں بیٹھا، تمہارا وطن ہے۔ ۔ ۔ جاؤ اس کی خاطر پاکستان سے لڑو۔ ۔ ۔ اُس پاکستان سے جس کے عین دل میں تم نے اپنی عُمر کے اتنے برس گزارے ہیں۔
رب نواز سوچتا تھا کہ یہی حال ان مسلمان فوجیوں کا ہے جو ہندوستان میں اپنا گھر بار چھوڑ کر یہاں آئے ہیں۔ وہاں ان سب سے سب کچھ چھین لیا گیاتھا۔ یہاں آ کر انہیں اور تو کچھ نہیں ملا، البتّہ بندوقیں مل گئی ہیں۔ اُسی وزن کی، اُسی شکل کی، اُسی مارکہ اور چھاپ کی۔
پہلے سب مل کر ایک ایسے دشمن کے خلاف لڑتے تھے جن کو انہوں نے پیٹ اور انعام و اکرام کی خاطر اپنا دشمن یقین کر لیا تھا۔ اب وہ خود دو حصّوں میں بٹ گئے تھے۔ پہلے سب ہندوستانی فوجی کہلاتے تھے۔ اب ایک پاکستانی تھا اور دوسرا ہندوستانی۔ ادھر ہندوستان میں مسلمان ہندوستانی فوجی تھے، رب نواز جب ان کے متعلق سوچتا تو اس کے دماغ میں ایک عجیب گڑ بڑ سی پیدا ہو جاتی۔ اور جب وہ کشمیر کے متعلق سوچتا تو اس کا دماغ بالکل جواب دے جاتا۔ ۔ ۔ پاکستانی فوجی کشمیر کیلئے لڑ رہے تھے یا کشمیر کے مُسلمانوں کیلئے؟اگر انہیں کشمیر کے مسلمانوں ہی کیلئے لڑایا جاتا تھا تو حیدرآباد اور جونا گڑ ھ کے مسلمانوں کیلئے کیوں انہیں لڑنے کیلئے نہیں کہا جاتا تھا۔ اور اگر یہ جنگ ٹھیٹھ اسلامی جنگ تھی تو دنیا میں دوسرے اسلامی مُلک ہیں وہ اس میں کیوں حصّہ نہیں لیتے۔
رب نواز بہت سوچ بچار کے بعد اس نتیجے پر پہنچا تھا کہ یہ باریک باریک باتیں فوجی کو بالکل نہیں سوچنی چاہئیں۔ اس کی عقل موٹی ہونی چاہیے۔ کیوں کہ موٹی عقل والا ہی اچھا سپاہی ہو سکتا ہے، مگر فطرت سے مجبور کبھی کبھی وہ چور دماغ سے ان پر غور کر ہی لیتا تھااور بعد میں اپنی اس حرکت پر خوب ہنستا تھا۔
دریائے کشن گنگا کے کنارے اس سڑک کیلئے جو مظفرآباد سے کرن جاتی ہے، کچھ عرصے سے لڑ ائی ہو رہی تھی۔ ۔ ۔ عجیب و غریب لڑائی تھی۔ رات کو بعض اوقات آس پاس کی پہاڑیاں فائروں کی بجائے گندی گالیوں سے گونج اُٹھتی تھیں۔
ایک مرتبہ صوبیدار رب نواز اپنی پلٹون کے جوانوں کے ساتھ شب خون مارنے کیلئے تیار ہو رہا تھا کہ دور نیچے ایک کھائی سے گالیوں کا شور اُٹھا۔ پہلے تو وہ گھبرا گیا۔ ایسے لگتا تھا کہ بہت سے بھوت مل کر ناچ رہے ہیں اور زور زور کے قہقہے لگا رہے ہیں۔ وہ بڑبڑایا: ’’خنزیر کی دُم…. یہ کیا ہو رہا ہے۔‘‘
ایک جوان نے گونجتی ہوئی آ واز سے مخاطب ہو کر یہ بڑی گالی دی اور رب نواز سے کہا ’’ صوبیدار صاحب گالیاں دے رہے ہیں۔ اپنی ماں کے یار۔‘‘
رب نواز یہ گالیاں سن رہا تھا جو بہت اُکسانے والی تھیں۔ اس کے جی میں آئی کہ بزن بول دے مگر ایسا کرنا غلطی تھی، چنانچہ وہ خاموش رہا۔ کچھ دیر جوان بھی چُپ رہے، مگر جب پانی سر سے گزر گیا تو اُنہوں نے بھی گلا پھاڑ پھاڑ کر گالیاں لڑھکانا شروع کر دیں…. رب نواز کیلئے اس طرح کی لڑائی بالکل نئی چیز تھی۔ اس نے نوجوانوں کو دو تین مرتبہ خاموش رہنے کیلئے کہا، مگر گالیاں ہی کچھ ایسی تھیں کہ جواب دیے بنا انسان سے نہیں رہا جاتا تھا۔
دشمن کے سپاہی نظر سے اوجھل تھے۔ رات کو تو خیر اندھیرا تھا، مگر وہ دن کو بھی نظر نہیں آتے تھے۔ صرف ان کی گالیاں نیچے پہاڑی کے قدموں سے اُٹھتی تھیں اور پتھروں کے ساتھ ٹکرا ٹکرا کر ہوا میں چلی جاتی تھیں۔ رب نواز کی پلاٹون کے جوان جب ان گالیوں کا جواب دیتے تھے تو اس کو ایسے لگتا تھا کہ وہ نیچے نہیں جاتیں، اوپر کو اُڑ جاتی ہیں۔ اس سے اس کو خاصی کوفت ہوتی تھی… چنانچہ اس نے جھنجلا کر حملہ کرنے کا حُکم دے دیا۔
رب نواز کو وہاں کی پہاڑیوں میں ایک عجیب سی بات نظر آئی تھی۔ چڑھائی کی طرف کوئی پہاڑی درختوں اور بوٹوں سے لدی پھُدی ہوئی تھی اور اُترائی کی طرف گنجی۔ کشمیری بتو کے سر کی طرح۔ کسی کی چڑھائی کا حصّہ گنجا ہوتا تھا اور اُترائی کی طرف درخت ہی درخت ہوتے تھے۔ چیڑ کے لمبے تناور درخت، جن کے بٹے ہوئے دھاگے جیسے پتّوں پر فوجی بُوٹ پھسل پھسل جاتے تھے۔
جس پہاڑی پر صوبیدار رب نواز کی پلاٹون تھی، اس کی اُترائی درختوں اور جھاڑیوں سے بے نیاز تھی۔ ظاہر ہے حملہ بہت ہی خطرناک تھا مگر سب جوان بخوشی تیار تھے۔ گالیوں کا انتقام لینے کیلئے وہ بہت بے تاب تھے۔ حملہ ہوا اور کامیاب رہا۔ دو جوان مر گئے۔ چار زخمی ہوئے۔ دشمن کے تین آدمی کھیت رہے۔ باقی رسد کا کچھ سامان چھوڑ کر بھاگ نکلے۔
صوبیدار رب نواز اور اس کے جوانوں کو اس بات کا بڑا ہی دُکھ تھا کہ دشمن کا کوئی زندہ سپاہی ان کے ہاتھ نہ آ یا جس کو وہ خاطرخواہ گالیوں کا مزا چکھاتے۔ مگر مورچہ فتح کرنے سے وہ ایک بڑی اہم پہاڑی پر قابض ہو گئے تھے۔ وائرلیس کے ذریعے سے صوبیدار رب نواز نے پلاٹون کمانڈر میجر اسلم کو فوراً ہی اپنے اس حملے کے نتیجے سے مطلع کر دیا تھا اور شاباش وصول کر لی تھی۔
قریب قریب ہر پہاڑی کی چوٹی پر ایک تالاب سا ہوتا تھا۔ اس پہاڑی پر بھی تالاب تھا، مگر دوسری پہاڑیوں کے تالابوں کے مقابلے میں زیادہ بڑا۔ اس کا پانی بھی بہت صاف اور شفاف تھا۔ گو موسم بہت سرد تھا مگر سب نہائے۔ دانت بجتے رہے مگر اُنہوں نے کوئی پرواہ نہ کی۔ وہ ابھی اس شغل میں مصروف تھے کہ فائر کی آواز آئی۔ سب ننگے ہی لیٹ گئے۔ تھوڑی دیر کے بعد صوبیدار رب نواز نے دوربین لگا کر نیچے ڈھلوانوں پر نظر دوڑائی، مگر اسے دشمن کی چھُپنے کی جگہ کا پتہ نہ چلا۔ اس کے دیکھتے دیکھتے ایک اور فائر ہوا۔ دور اُترائی کے فوراً بعد ایک نسبتاًچھوٹی پہاڑی کی داڑھی سے اسے دھواں اُٹھتا نظر آیا۔ اس نے فوراً ہی اپنے جوانوں کو فائر کا حُکم دیا۔
ادھر سے دھڑا دھڑ فائر ہوئے۔ اُدھر سے بھی جوابا" گولیاں چلنے لگیں …. صوبیدار رب نواز نے دوربین سے دشمن کی پوزیشن کا بغور مطالعہ کیا۔ وہ غالبا" بڑے بڑے پتھروں کے پیچھے محفوظ تھے۔ مگر یہ محافظ دیوار بہت ہی چھوٹی تھی۔ زیادہ دیر تک وہ جمے نہیں رہ سکتے تھے۔ ان میں سے جو بھی اِدھر اُدھر ہٹتا، اس کا صوبیدار رب نواز کی زد میں آنا یقینی تھا۔
تھوڑی دیر فائر ہوتے رہے۔ اس کے بعد رب نواز نے اپنے جوانوں کو منع کر دیاکہ وہ گولیاں ضائع نہ کریں صرف تاک میں رہیں۔ جونہی دشمن کا کوئی سپاہی پتھروں کی دیوار سے نکل کر اٖدھر یا اُدھرجانے کی کوشش کرے اس کو اُڑا دیں۔ یہ حُکم دے کر اس نے اپنے الف ننگے بدن کی طرف دیکھا اور بڑبڑایا : ’’خنزیر کی دُم… کپڑوں کے بغیر آدمی حیوان معلو م ہوتا ہے۔‘‘
لمبے لمبے وقفوں کے بعد دشمن کی طرف سے اٖکّا دُکّا فائر ہوتا رہا۔ یہاں سے اس کا جواب کبھی کبھی دے دیا جاتا۔ یہ کھیل پورے دو دن جاری رہا…. موسم یک لخت بہت سرد ہو گیا۔ اس قدر سرد کہ دن کو بھی خون منجمد ہونے لگتا تھا، چنانچہ صوبیدار رب نواز نے چائے کے دور شروع کروا دیئے۔ ہر وقت آگ پر کیتلی دھری رہتی۔ جونہی سردی زیادہ ستاتی ایک دور اس گرم گرم مشروب کا ہو جاتا۔ ویسے دشمن پر برابر نگاہ تھی۔ ایک ہٹتا تو دوسرا اس کی جگہ دوربین لے کر بیٹھ جاتا۔
ہڈیوں تک اُتر جانے والی سرد ہوا چل رہی تھی۔ جب اس جوان نے جو پہرے دار تھا، بتایا کہ پتھروں کی دیوار کے پیچھے کچھ گڑبڑ ہو رہی ہے، صوبیدار رب نواز نے اس سے دوربین لی اور اسے غور سے دیکھا۔ اسے حرکت نظر نہ آئی لیکن فورأ ہی ایک آواز بلند ہوئی اور دیر تک اس کی گونج آس پاس کی پہاڑیوں کے ساتھ ٹکراتی رہی۔ رب نواز اس کا مطلب نہ سمجھا۔ اس کے جواب میں اس نے اپنی بندوق داغ دی۔ اس کی گونج دبی تو پھر اُدھر سے آ واز بلند ہوئی، جو صاف طور پر ان سے مخاطب تھی۔ رب نواز چلّایا:’’خنزیر کی دُم۔ بول کیا کہتا ہے تُو!‘‘
فاصلہ زیادہ نہیں تھا۔ رب نواز کے الفاظ دشمن تک پہنچ گئے۔ کیوں کہ وہاں سے کسی نے کہا۔ ’’گالی نہ دے بھائی۔‘‘
رب نواز نے اپنے جوانوں کی طرف دیکھا اور بڑے جھنجھلائے ہوئے تعجّب کے ساتھ کہا’’ بھائی؟…‘‘ پھر وہ اپنے منہ کے آگے ہاتھوں کا بھونپا بنا کر چلایا ’’بھائی ہو گا تیری ماں کا جنا…. یہاں سب تیری ماں کے یار ہیں!‘‘
ایک دم اُدھر سے ایک زخمی آواز بلند ہوئی۔ ’’رب نواز!‘‘
رب نواز کانپ گیا…..یہ آواز آس پاس کی پہاڑیوں سے اپنا سر پھوڑتی رہی اور مختلف انداز میں رب نواز… رب نواز دہراتی بالآخر خون منجمد کر دینے والی سرد ہوا کے ساتھ جانے کہاں اُڑ گئی۔
رب نواز بہت دیر کے بعد چونکا ’’یہ کون تھا۔‘‘ پھر آہستہ سے بڑ بڑایا: ’’ خنزیر کی دُم!‘‘
اس کو اتنا معلوم تھا ٹیٹوال کے محاذ پر سپاہیوں کی اکثریت 2/9 رجمنٹ کی ہے۔ وہ بھی اسی رجمنٹ میں تھا۔ مگر یہ آ واز تھی کس کی؟وہ ایسے بے شمار آدمیوں کو جانتا تھا جو کبھی اس کے عزیز ترین دوست تھے۔ کچھ ایسے بھی جن سے اس کی دشمنی تھی، چند ذاتی اغراض کی بنا پر۔ لیکن یہ کون تھا جس نے ا س کی گالی کا بُرا مان کر اسے چیخ کر پکارا تھا۔
رب نواز نے دوربین لگا کر دیکھا، مگر پہاڑی کی ہلتی ہوئی چھدری داڑھی میں اسے کوئی نظر نہ آیا۔ دونوں ہاتھوں کا بھونپا بنا کر اس نے اپنی آواز ادھر پھینکی ’’یہ کون تھا؟… رب نواز بول رہا ہے…. رب نواز… رب نواز۔‘‘
یہ رب نواز، بھی کچھ دیر تک پہاڑیوں کے ساتھ ٹکراتا رہا۔ رب نواز بڑ بڑایا۔ ’’خنزیر کی دُم !‘‘ فورأ ہی اُدھر سے آ واز بلند ہوئی’’ میں ہوں ….. میں ہوں رام سنگھ!‘‘
رب نواز یہ سُن کر یوں اُچھلا جیسے وہ چھلانگ لگا کر دوسری طرف جانا چاہتا ہے۔ پہلے اس نے اپنے آپ سے کہا۔ ’’ رام سنگھ؟… اوئے رام رام سنگھا …. خنزیر کی دُم!‘‘
’’ خنزیر کی دُم‘‘ ابھی پہاڑیوں کے ساتھ ٹکرا ٹکرا کر گُم نہیں ہوئی تھی کہ رام سنگھ کی پھٹی پھٹی آ واز بلند ہوئی۔ ’’ اوئے کمہار کے کھوتے!‘‘
رب نواز پھوں پھوں کرنے لگا۔ جوانوں کی طرف رعب دار نظروں سے دیکھتے ہوئے وہ بڑ بڑایا۔ ’’ بکتا ہے… خنزیر کی دُم!‘‘ پھر اس نے رام سنگھ کو جواب دیا۔ ’’ ارے بابا ٹل کے کڑاہ پرشاد… اوئے خنزیر کے جھٹکے۔‘‘
رام سنگھ بے تحاشا قہقہے لگانے لگا۔ رب نواز بھی زور زور سے ہنسنے لگا۔ پہاڑیاں یہ آ وازیں بڑے کھلنڈرے انداز میں ایک دوسرے کیطرف اُچھالتی رہیں…. صوبیدار رب نواز کے جوان خاموش تھے۔
جب ہنسی کا دورہ ختم ہوا تو اُدھر سے رام سنگھ کی آواز بلند ہوئی’’ دیکھو یار۔ ہمیں چائے پینی ہے!‘‘
رب نوازبولا ’’ پیو… عیش کرو۔‘‘
رام سنگھ چلایا ’’ اوئے عیش کس طرح کریں …. سامان تو ہمارا اُدھر پڑا ہے۔‘‘
رب نواز نے پوچھا ’’کدھر؟‘‘
رام سنگھ کی آواز آئی ’’ اُدھر…. جدھر تمہارا فائر ہمیں اُڑا سکتا ہے۔‘‘
رب نواز ہنسا’’ تو کیا چاہتے ہو تم… خنزیر کی دُم!‘‘
رام سنگھ بولا ’’ ہمیں سامان لے آ نے دے‘‘۔
’’لے آ‘‘ یہ کہہ کر اس نے اپنے جوانوں کیطرف دیکھا۔
رام سنگھ کی تشویش بھری آواز بلند ہوئی ’’ تُو اُڑا دے گا، کمہار کے کھوتے!‘‘
رب نواز نے بھنا کر کہا’’ بک نہیں اوئے سنتوسنگھ کے کچھوے۔‘‘
رام سنگھ ہنسا’’قسم کھا نہیں مارے گا!‘‘
رب نواز نے پوچھا ’’کس کی قسم کھاؤ ں۔‘‘
رام سنگھ نے کہا ’’ کسی کی بھی کھا لے!‘‘
رب نواز ہنسا’’ اوئے جا …. منگوا لے اپنا سامان۔‘‘
چند لمحات خاموشی رہی، دوربین ایک جوان کے ہاتھ میں تھی۔ اس نے معنی خیز نظروں سے صوبیدار رب نواز کی طرف دیکھا۔ بندوق چلانے ہی والا تھا کہ رب نواز نے اسے منع کر دیا۔ ’’نہیں….نہیں!‘‘
پھر اس نے دوربین لے کر خود دیکھا۔ ایک آدمی ڈرتے ڈرتے پنجوں کے بل پتھروں کے عقب سے نکل کر جا رہا تھا۔ تھوڑی دُور اس طرح چل کر وہ اُٹھااور تیزی سے بھاگا اور کچھ دُور جھاڑیوں میں غائب ہو گیا۔ دو منٹ کے بعد واپس آیا تو اُس کے ہاتھ میں کچھ سامان تھا۔ ایک لحظے کیلئے وہ رُکا۔ پھر تیزی سے پتھروں کی محفوظ دیوار کی طرف بھاگا اور بالآخر وہاں پہنچ گیا۔ وہ نظروں سے اجھل ہوا تو رب نواز نے اپنی بندوق چلا دی۔ تڑاخ کے ساتھ ہی رب نواز کا قہقہہ بلند ہوا۔ یہ دونوں آوازیں مل کر کچھ دیر جھنجھناتی رہیں۔ پھر رام سنگھ کی آواز آئی ’’ ’’تھینک یو۔‘‘
’’نو مینشن۔‘‘ رب نواز نے یہ کہہ کر جوانوں کی طرف دیکھا۔ ’’ ایک راؤنڈ ہو جائے۔‘‘
تفریح کے طور پر دونوں طرف سے گولیاں چلنے لگیں …. پھر خاموشی ہو گئی۔ رب نواز نے دور بین لگا کر دیکھا۔ پہاڑی کی داڑھی میں سے دھواں اُٹھ رہا تھا۔ وہ پکارا۔ ’’ چائے تیار کر لی رام سنگھا؟‘‘
جواب آیا۔ ’’ ابھی کہاں اوئے کمہار کے کھوتے!‘‘
رب نواز ذات کا کمہار تھا۔ جب کوئی اس کی طرف اشارہ کرتا تھا تو غُصّے سے اس کا خون کھولنے لگتا تھا۔ ایک صرف رام سنگھ کے منہ سے وہ اسے برداشت کر لیتا تھا اس لیے کہ وہ اس کا بے تکلف دوست تھا۔ ایک ہی گاؤں میں وہ پل کر جوان ہوئے تھے۔ دونوں کی عمر میں صرف چند دن کا فرق تھا۔ دونوں کے باپ، پھر اُن کے باپ بھی آپس میں دوست تھے۔ ایک ہی سکول میں پرائمری تک پڑھے تھے اور پھر ایک ہی دن فوج میں بھرتی ہوئے تھے اور پچھلی بڑی جنگ میں کئی محاذوں پر اکٹھے لڑے تھے۔
رب نواز اپنے جوانوں کی نظروں میں خود کو خفیف محسوس کر کے بڑبڑایا: ’’ خنزیر کی دُم …. اب بھی باز نہیں آتا۔‘‘ پھر وہ رام سنگھ سے مخاطب ہوا ’’ بک نہیں اوئے کھوتے کی جوں۔‘‘
رام سنگھ کا قہقہہ بلند ہوا۔ رب نواز نے ایسے ہی شست باندھی ہوئی تھی۔ تفریحأ اس نے لبلی دبا دی۔ تڑاخ کے ساتھ ایک فلک شگاف چیخ بلند ہوئی۔ رب نواز نے فورأ دوربین لگائی اور دیکھا ایک آدمی، نہیں، رام سنگھ پیٹ پکڑے، پتھروں کی دیوار سے ذرا ہٹ کر دوہرا ہوا اور گر پڑا۔
رب نواز زور سے چیخا’’ رام سنگھ!‘‘ اور اُٹھ کر کھڑا ہو گیا، اُدھر سے بیک وقت تین چار فائر ہوئے۔ ایک گولی رب نواز کا دایاں بازو چاٹتی ہوئی نکل گئی۔ فورأ ہی وہ اوندھے منہ زمین پر گر پڑا۔ اب دونوں طرف سے فائر شروع ہو گئے۔ اُدھر کچھ سپاہیوں نے گڑ بڑ سے فائدہ اُٹھا کر پتھر کی عقب سے نکل بھاگنا چاہا۔ ادھر سے فائر جاری تھے۔ مگر نشانے پر کوئی نہ بیٹھا۔ رب نواز نے اپنے جوانوں کو اُترنے کا حُکم دیا۔ تین فورأ ہی مارے گئے مگر افتاں و خیزاں باقی جوان دوسری پہاڑی پر پہنچ گئے۔
رام سنگھ خون میں لت پت پتھریلی زمین پر پڑا کراہ رہا تھا۔ گولی اس کے پیٹ میں لگی تھی۔ رب نواز کو دیکھ کر اس کی آنکھیں تمتا اُٹھیں۔ مسکرا کر اس نے کہا۔ ’’ اوئے کمہار کے کھوتے، یہ تُو نے کیا کیا۔‘‘
رب نواز رام سنگھ کا زخم اپنے پیٹ میں محسوس کر رہا تھا۔ لیکن وہ مسکرا کر اس پر جھُکا اور دو زانو ہو کر اس کی پیٹی کھولنے لگا۔ ’’ خنزیر کی دُم، تم سے کس نے باہر نکلنے کو کہا تھا۔‘‘
پیٹی اُتارنے سے رام سنگھ کو سخت تکلیف ہوئی۔ درد سے وہ چلّا چلّا پڑا۔ جب پیٹی اتر گئی اور رب نواز نے زخم کا معائنہ کیا جو بہت خطرناک تھا تو رام سنگھ نے رب نواز کا ہاتھ دبا کر کہا’’ میں اپنا آپ دکھانے کیلئے باہر نکلا تھا کہ تُو نے……. اوئے رب کے پتر فائر کر دیا۔‘‘
رب نوازکا گلا رندھ گیا۔ ’’قسم وحدہ لا شریک کی…. میں نے ایسے ہی بندوق چلائی تھی۔ مجھے معلوم نہیں تھاکہ تُو کھوتے کا سنگھ باہر نکل رہا ہے….. مجھے افسوس ہے!‘‘
رام سنگھ کا خون کافی بہہ نکلا تھا۔ رب نواز اور اسے ساتھی کئی گھنٹوں کے بعد وہاں پہنچے تھے۔ اس عرصے تک تو ایک پوری مشک خون کی خالی ہو سکتی تھی۔ رب نواز کو حیرت تھی کہ اتنی دیر تک رام سنگھ زندہ رہ سکا۔ اس کو امید نہیں تھی کہ وہ بچے گا۔ ہلانا جلانا غلط تھا، چنانچہ اس نے فورأ وائرلیس کے ذریعے پلاٹون کمانڈر سے درخواست کی کہ جلدی ایک ڈاکٹر روانہ کیا جائے۔ اس کا دوست رام سنگھ زخمی ہو گیا ہے۔
ڈاکٹر کا وہاں تک پہنچنا اور پھر وقت پر پہنچنا محال تھا۔ رب نواز کو یقین تھا کہ رام سنگھ صرف چند گھڑیوں کا مہمان ہے۔ پھر بھی وائرلیس پر پیغام پہنچا کر اس نے مسکرا کر رام سنگھ سے کہا ’’ ڈاکٹر آ رہا ہے… کوئی فکر نہ کر۔‘‘
رام سنگھ بڑی نحیف آواز میں سوچتے ہوئے بولا’’ فکر کسی بات کی نہیں …. میرے کتنے جوان مارے ہیں تم لوگوں نے؟‘‘
رب نواز نے جواب دیا’’ صرف ایک!‘‘
رام سنگھ کی آواز اور زیادہ نحیف ہو گئی’’ تیرے کتنے مارے گئے؟‘‘
رب نواز نے جھوٹ بولا’’چھ!‘‘ اور یہ کہہ کر اس نے معنی خیز نظروں سے اپنے جوانوں کی طرف دیکھا۔
’’چھ….چھ‘‘ رام سنگھ نے ایک ایک آدمی اپنے دل میں گنا۔ ’’ میں زخمی ہوا تو وہ بہت بددل ہو گئے تھے…. پر میں نے کہا …. کھیل جاؤ اپنی اور دشمن کی جان سے…. چھ … ٹھیک ہے!‘‘وہ پھر ماضی کے دھندلکوں میں چلا گیا۔ ’’رب نواز… یاد ہیں وہ دن تمہیں…..‘‘
اور رام سنگھ نے بیتے دن یاد کرنا شروع کر دیئے۔ کھیتوں کھلیانوں کی باتیں۔ سکول کے قصّے۔ 2/9 رجمنٹ کی داستانیں…. کمانڈنگ افسروں کے لطیفے اور باہر کے ملکوں میں اجنبی عورتوں سے معاشقے۔ ان کا ذکر کرتے ہوئے رام سنگھ کو کوئی بہت دلچسپ واقعہ یاد آگیا۔ ہنسنے لگا تو اس کے ٹیس اُٹھی مگر اس کی پرواہ نہ کرتے ہوئے وہ زخم سے اوپر ہی اوپر ہنس کر کہنے لگا’’ اوئے سور کے نل…. یاد ہے تمہیں وہ میڈم…‘‘
رب نواز نے پوچھا ’’کون؟‘‘
رام سنگھ نے کہا ’’ وہ …. اٹلی کی…. کیا نام رکھا تھا ہم نے اُس کا…. بڑی مارخور عورت تھی!‘‘
رب نواز کو فورأ ہی وہ عورت یاد آ گئی۔ ’’ہاں، ہاں….وہ……میڈم منیتا فنتیو….. پیسہ ختم، تماشہ ختم…… پر تجھ سے کبھی کبھی رعایت کر دیتی تھی مسولینی کی بچی!‘‘
رام سنگھ زور سے ہنسا … اور اس کے زخم سے جمے ہوئے خون کا ایک لوتھڑا نکل آیا۔ سرسری طور پر رب نواز نے جو پٹّی باندھی تھی۔ وہ کھسک گئی تھی۔ اسے ٹھیک کر کے اس نے رام سنگھ سے کہا ’’ اب خاموش رہو۔‘‘
رام سنگھ کو بہت تیز بُخار تھا۔ اس کا دماغ اس کے باعث بہت تیز ہو گیا تھا۔ بولنے کی طاقت نہیں تھی مگر بولے چلا جا رہا تھا۔ کبھی کبھی رُک جاتا۔ جیسے یہ دیکھ رہا ہے کہ ٹینکی میں کتنا پٹرول باقی ہے۔ کچھ دیر کے بعد اس پر ہذیانی کیفیت طاری ہو گئی، لیکن کچھ ایسے وقفے بھی آتے تھے کہ اس کے ہوش و حواس سلامت ہوتے تھے۔ انہی وقفوں میں اس نے ایک مرتبہ رب نواز سے سوال کیا۔ ’’یار سچو سچ بتا، کیا تم لوگوں کو واقعی کشمیر چاہیئے !‘‘
رب نواز نے پورے خلوص کے ساتھ کہا ’’ ہاں، رام سنگھا!‘‘
رام سنگھ نے اپنا سر ہلایا۔ ’’ نہیں…. میں نہیں مان سکتا…. تمہیں ورغلایا گیا ہے۔‘‘
رب نواز کو اس کو یقین دلانے کے انداز میں کہا’’ تمہیں ورغلایا گیا ہے… قسم پنج تن پاک کی…‘‘
رام سنگھ نے رب نواز کا ہاتھ پکڑ لیا۔ ’’ قسم نہ کھا یارا …. ٹھیک ہو گیا۔‘‘لیکن اس کا لہجہ صاف بتا رہا تھا کہ اسے رب نواز کی قسم کا یقین نہیں۔
دن ڈھلنے سے کچھ دیر پہلے پلاٹون کمانڈ نٹ میجر اسلم آیا۔ اس کے ساتھ چند سپاہی تھے، مگر ڈاکٹر نہ تھا۔ رام سنگھ بے ہوشی اور نزع کی حالت میں کچھ بڑ بڑا رہا تھا۔ مگر آواز اس قدر کمزور اور شکستہ تھی کہ سمجھ میں کچھ نہیں آتا تھا۔ میجر اسلم بھی 2/9 رجمنٹ کا تھا اور رام سنگھ کو بہت اچھی طرح جانتا تھا۔ رب نواز سے سارے حالات دریافت کرنے کے بعداس نے رام سنگھ کو بلایا…….’’رام سنگھ…….رام سنگھ!‘‘
رام سنگھ نے اپنی آنکھیں کھولیں لیٹے لیٹے اٹینشن ہو کر اس نے سلیوٹ کیا لیکن پھر آنکھیں کھول کر اس نے ایک لحظے کے لیے غور سے میجر اسلم کی طرف دیکھا۔ اس کا سلیوٹ کرنے والا اکڑا ہوا ہاتھ ایک دم گر پڑا۔ جھنجھلا کر اس نے بڑبڑانا شروع کیا۔ ’’کچھ نہیں اوئے رام سایاں….. بھول ہی گیا تو سور کے نلّا……کہ یہ لڑائی…….یہ لڑائی؟‘‘
رام سنگھ اپنی بات پوری نہ کر سکا۔ بند ہوتی ہوئی آنکھوں سے اس نے رب نوازکی طرف نیم سوالیہ انداز میں دیکھا اور سرد ہو گیا۔
17 اکتوبر 1951ء
Aakhri Salute Saadat Hassan Manto Afsana mkammal
{[['']]}

Train To Pakistan by Khushonat Singh

Title: Train To Pakistan
Author: Khushonat Singh
Prize: Free
Download: Khushonat Singh Train To Pakistan
Urdu Title: ٹرین ٹو پاکستان خوشونت سنگھ
Type: Historical novel



Note: All urdu novels and urdu books available in PDF format Imran series download and Islamic books free any time don't forget to bookmark http://www.urdupunch.co.vu
feedback requerd 

{[['']]}

ﻓﯿﺲﺑُﮏ ﭘﺮ لڑکیوں ﮐﯽ ﺷﮩﺮﺕ کیلئے ﭼﻮﺩﮦ ﺭﮨﻨﻤﺎ ﺍﺻﻮﻝ ...

ﻓﯿﺲﺑُﮏ ﭘﺮ لڑکیوںﮐﯽﺷﮩﺮﺕ کیلئے ﭼﻮﺩﮦ ﺭﮨﻨﻤﺎ ﺍﺻﻮﻝ ...
 ﮨﺮ 3ﺩﻥ ﺑﻌﺪ ﻓﯿﻠﻨﮓ ﺍﻓﺴﺮﺩﮦ ﮨﺮ ﭘﺎﻧﭽﻮﯾﮟ ﺩﻥ ﻓﯿﻠﻨﮓ
happy ﺍﻭﺭ ﮨﺮ ﺁﭨﮭﻮﯾﮟ ﺩﻥ ﻓﯿﻠﻨﮓ Headache ﮐﯽ ﭘﻮﺳﭧ
ﺩﯾﮟ...
 5 ﮨﺰﺍﺭ ﻓﺮﯾﻨﮉﺯ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ 4 ﮨﺰﺍﺭ ﻟﮍﮐﻮﮞ ﮐﻮ ﺩﻭﺳﺖ
ﺑﻨﺎﺋﯿﮟ..
ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﯾﮩﯽ ﮨﺮ ﺗﺼﻮﯾﺮ ﭘﺮ ﻭﺍﮦ ﻭﺍﮦ ﺍﻭﺭ ﮨﺮ ﻏﻢ ﻣﯿﮟ ﺁﮦ ﺁﮦ
ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ...
 ﻧﺎﻣﻮﺭ ﺷﻌﺮﺍ ﮐﯽ ﺷﺎﻋﺮﯼ ﮨﻤﺮﺍﮦ ﺍﭘﻨﯽ ﺗﺼﻮﯾﺮ ﮐﮯ
ﭘﻮﺳﭧ ﮐﺮﯾﮟ ﺳﺮﺩﯾﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﺑﮍﮬﮑﺘﯽ ﺷﺎﻋﺮﯼ ﺍﻭﺭ
ﮔﺮﻣﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺩﮐﮭﯽ ﺷﺎﻋﺮﯼ ﮐﺎ ﺍﻧﺘﺨﺎﺏ ﮐﺮﯾﮟ ﺗﺎﮐﮧ
ﻗﺎﺭﺋﯿﻦ ﺳﺮﺩ ﺁﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﮔﺮﻡ ﺳﺎﻧﺴﻮﮞ ﺳﮯ ﻣﻮﺳﻢ ﮐﻮ
ﻣﻌﺘﺪﻝ ﺭﮐﮫ ﺳﮑﯿﮟ...
 ﺁﭖ ﺭﻭﺯﺍﻧﮧ ﺳﻔﺮ ﭼﺎﮨﮯ ﭼﻨﮓ ﭼﯽ ﭘﺮ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﻮﮞ ﻟﯿﮑﻦ
ﺳﭩﯿﭩﺲ ﭘﺮ ﭨﺮﯾﻮﻟﻨﮓ ﺁﻥ Lovely Civic ﻟﮑﮭﯿﮟ...
 ﺍﭘﻨﯽ ﺍﺻﻞ ﻗﺮﯾﺒﯽ ﺩﻭﺳﺖ ﮐﻮ ﻓﯿﺲ ﺑﮏ ﭘﺮ ﮐﺒﮭﯽ
ﻓﺮﯾﻨﮉ ﻧﺎ ﺑﻨﺎﺋﯿﮟ ﻭﺭﻧﮧ ﻭﮦ ﺁﭘﮑﯽ ﺷﮩﺮﺕ ﺩﯾﮑﮭﮑﺮ ﻣﺎﺭﮮ
ﺣﺴﺪ ﮐﮯ ﺁﭘﮑﺎ ﮐﭽﺎ ﭼﭩﮭﺎ ﮐﺴﯽ ﺑﮭﯽ ﻭﻗﺖ ﮐﮭﻮﻝ ﺳﮑﺘﯽ
ﮨﮯ...
 ﮐﺴﯽ ﻣﺸﮩﻮﺭ ﺍﺩﺍﮐﺎﺭﮦ ' ﻣﺎﮈﻝ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﻓﺮﯾﻨﮉ ﻟﺴﭧ
ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮉ ﻧﺎ ﮐﺮﯾﮟ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺁﭖ ﺳﮯ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﮐﻮﺋﯽ
ﻧﮩﯿﮟ
) ﺁﭘﮑﯽ ﺍﭘﻨﯽ ﺩﺍﻧﺴﺖ ﻣﯿﮟ (...
 ﺻﺒﺢ ﺍُﭨﮫ ﮐﺮ ﮔﻮﮔﻞ ﺳﮯ ﮐﺴﯽ ﺍﭼﮭﮯ ﺳﮯ ﻧﺎﺷﺘﮯ ﮐﯽ
ﺗﺼﻮﯾﺮ ﺍُﭨﮭﺎﺋﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﭖ ﻟﻮﮈ ﮐﺮﺩﯾﮟ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺩ ﺁﺭﺍﻡ ﺳﮯ
ﺍﭼﺎﺭ ﮐﯿﺴﺎﺗﮫ ﺭﻭﭨﯽ ﮐﮭﺎﺋﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺳﺎﺗﮫ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﭘﻮﺳﭧ
ﭘﺮ ﮐﻤﻨﭩﺲ ﺍﻭﺭ ﻻﺋﮑﺲ ﮐﮯ ﻣﺰﮮ ﺍُﭨﮭﺎﺋﯿﮟ...
 ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﻣﺪﺗﻮﮞ ﺑﻌﺪ ﻏﻠﻄﯽ ﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﭼﮭﯽ ﮈﺵ
ﺑﻦ ﺟﺎﺋﮯ ﯾﺎ ﭘﮍﻭﺳﯿﻮﮞ ﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﮈﺵ ﺁﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﻓﻮﺭﺍً ﺳﮯ
ﭘﯿﺸﺘﺮ ﺍﺳﮑﯽ ﺗﺼﺎﻭﯾﺮ ﺍﭖ ﻟﻮﮈ ﮐﺮﺩﯾﮟ...
-:9 ﺭﺷﺘﮧ ﺩﺍﺭﻭﮞ ﮐﯽ ﺷﺎﺩﯾﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﮐﺮ ﻣﺨﺘﻠﻒ ﺍﯾﻨﮕﻠﺰ
ﺳﮯ ﺗﺼﻮﯾﺮﯾﮟ ﺍﺗﺮﻭﺍﺋﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻭﻗﻔﮯ ﻭﻗﻔﮯ ﺳﮯ ﺷﺌﯿﺮ ﮐﺮﯾﮟ
ﮐﺒﮭﯽ ﺍﮎ ﺳﺎﺗﮫ ﺗﻤﺎﻡ ﺗﺼﺎﻭﯾﺮ ﺍﮎ ﺳﺎﺗﮫ ﺷﺌﯿﺮ ﻧﺎ ﮐﺮﯾﮟ...
 ﺑﻐﯿﺮ ﻧﺎﻡ ﻟﯿﺌﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﻓﺮﯾﻨﮉ ﻟﺴﭧ ﺳﮯ ﮐﺴﯽ ﺩﻭﺳﺖ
ﮐﯽ ﺷﮑﺎﺋﺘﯽ ﭘﻮﺳﭧ ﻟﮕﺎ ﺩﯾﮟ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺳﺮﻭﮞ ﺳﮯ ﺍﺱ ﺑﺎﺭﮮ
ﺭﺍﺋﮯ ﻟﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮑﯽ ﻏﯿﺒﺖ ﮐﺎ ﻣﺰﮦ ﺍُﭨﮭﺎﺋﯿﮟ...
 ﮐﻮﺋﯽ ﺑﮭﯽ ﻧﺌﯽ ﻓﻠﻢ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﻭﺍﭼﻨﮓ Movie
...... ﮐﺎ ﺳﭩﯿﭩﺲ ﺿﺮﻭﺭ ﺍﭖ ﻟﻮﮈ ﮐﺮﯾﮟ...
 ﮐﺴﯽ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﻟﮍﮐﯽ ﮐﯽ ﭘﻮﺳﭧ ﮐﻮ ﻧﺎ ﻻﺋﮏ ﮐﺮﯾﮟ ﻧﺎ
ﮨﯽ ﮐﻤﻨﭧ ﺩﯾﮟ ﺍﮔﺮ ﮐﻤﻨﭧ ﮐﺮﻧﺎ ﺑﮩﺖ ﮨﯽ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﮨﻮ ﺗﻮ
ﺍﯾﺴﺎ ﮐﻤﻨﭧ ﺩﯾﮟ ﺟﺲ ﺳﮯ ﺍﺳﮑﮯ ﺗﻦ ﺑﺪﻥ ﻣﯿﮟ ﺁﮒ ﻟﮓ
ﺟﺎﺋﮯ...
 ﺭﻭﺯﺍﻧﮧ ﺩﺱ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﯽ ﭘﻮﺳﭧ ﮐﻮ ﻻﺋﮏ
ﺍﻭﺭ ﮐﻤﻨﭧ ﺩﯾﮟ ﺍﯾﺴﺎ ﮐﺮﻧﮯ ﺳﮯ ﺁﭖ ﮐﯽ ﻭﮦ "ﻋﺰﺕ " ﺍﻭﺭ
ﻗﺪﺭ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﮯ ﮔﯽ...
 ﭼﺎﮨﮯ ﻣﺤﻠﮯ ﮐﯽ ﺩﮐﺎﻥ ﺳﮯ ﺍﻧﮉﮮ ﻟﯿﻨﮯ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﻟﯿﮑﻦ
ﺳﭩﯿﭩﺲ Shopping at pace ﮐﺎ ﺩﯾﮟ...
Farrukh.
{[['']]}

مُلّا نصر الدین کے دوست لطیفے


آپ نے ملا نصر الدین کا نام تو سنا ہوگا۔ یہ شخص ترکی کا ایک مسخرہ تھا جس طرح ہمارے ہاں ملا دو پیازہ اور شیخ چلی کے لطیفے مشہور ہیں، اسی طرح ترکی میں ملا نصر الدین کے لطیفے بڑے مزے لے لے کر بیان کیے جاتے ہیں۔ کہتے ہیں


ایک دن مُلّا نصر الدین چند دوستوں کے ساتھ جنگل سے گذر رھے تھے کہ اچانک ایک گائے کی آواز سنائی دی ۔
مُلّا کے دوستوں نے کہا : " مُلّا ! آپ کو گائے بُلا رہی ھے ۔"
مُلّا گائے کے پاس چلے گئے ۔ چند منٹ بعد واپس آئے تو دوستوں نے طنزًا پوچھا :
" مُلّا جی گائے کیا کہہ رہی تھی ؟ "
مُلّا بولے : " گائے کہہ رہی تھی کہ آپ کِن گدھوں کے ساتھ پھر رہے ہیں ۔ "


 ملا نصر الدین یوں تو نہایت عقل مند اور عالم فاضل شخص تھا مگر لوگوں کی اصلاح اور تفریح کے لیے بے وقوف بنا رہتا اور ایسی ایسی حرکتیں کرتا کہ لوگ ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہوجاتے۔ ملا نصر الدین کے پڑوس میں ایک مال دار یہودی رہتا تھا جو اتنا کنجوس تھا کہ کبھی کسی غریب اور محتاج کو ایک پیسہ نہ دیتا تھا۔ ملا نے کئی مرتبہ اسے سمجھایا کہ خدا نے تمہیں دولت عطا کی ہے، اسے غریب اور مفلس لوگوں پر خرچ کیا کرو، لیکن اس نے ملا کی کوئی نصیحت نہ سنی۔آخر ملا نصر الدین نے اسے سزا دینے کے لیے ایک ترکیب سوچی۔ ایک روز صبح سویرے وہ نماز پڑھ کر زور زور سے دعا مانگنے لگا۔ یااللہ، اگر تو مجھے ایک ہزار اشرفیوں کی تھیلی بھیج دے تو میں اسے محتاجوں پر صرف کردوں۔ لیکن اگر اس میں سے ایک اشرفی بھی کم ہوئی تو ہرگز قبول نہ کروں گا۔ یہودی نے یہ دعا سنی تو سوچا کہ ملا بڑا ایمان دار بنتا ہے، اس کی ایمانداری آزمانی چاہیے۔ یہ سوچ کر اس نے تھیلی میں نو سو ننانوے اشرفیاں بھریں اور عین اس وقت جب کہ ملا نصر الدین دعا مانگ رہا تھا، اشرفیوں سے بھری ہوئی تھیلی اس کے صحن میں پھینک دی۔ ملا نصر الدین نے لپک کر تھیلی اٹھالی اور اس میں سے اشرفیاں نکال نکال کر گننے لگا۔ کل نو سو ننانوے اشرفیاں تھیں، ملا نے خدا کا شکر ادا کیا اور کہنے لگا۔ یا اللہ، میں تیرا شکر گزار ہوں کہ تو نے میری دعا قبول فرمالی، ایک اشرفی کم ہے تو کوئی بات نہی، یہ اشرفی پھر کبھی دے دینا۔ یہودی نے جب ملا نصر الدین کے یہ الفاظ سنے تو سخت پریشان ہوا اور دل میں کہنے لگا کہ یہ ملا تو بہت چالاک ہے۔ اس نے دھوکے سے میری اشرفیاں ہتھالیں وہ بھاگا بھاگا ملا کے پاس آیا اور کہنے لگا تم بہت بے ایمان شخص ہو۔ لائو، میری اشرفیاں واپس کرو۔ تم نے تو کہا تھا کہ ہزار میں سے ایک اشرفی بھی کم ہوئی تو واپس کردوں گا، لیکن اب تم نو سو ننانوے اشرفیاں قبول کرنے پر تیار ہو۔ ملا نصر الدین غصے سے کہنے لگا، تم کون ہوتے ہو مجھ سے اشرفیاں مانگنے والے، یہ تو میرے خدا نے مجھے بھیجی ہیں، جائو، اپنا کام کرو۔ یہودی سیدھا قاضی کی عدالت میں گیا اور ملا کے خلاف مقدمہ دائر کردیا۔ قاضی صاحب نے یہودی کو حکم دیا کہ ملا نصر الدین کو بلالائو، ہم ابھی فیصلہ کردیں گے۔ یہودی نے ملانصر الدین کے پاس آکر کہا، چلو، تمہیں قاضی صاحب بلاتے ہیں۔ ملا نے جواب دیا، تم دیکھ رہے ہو کہ میرا لباس پھٹا پرانا ہے، میں اس شرط پر جانے کے لیے ت یار ہوں کہ تم مجھے اچھے اچھے کپڑے لا کر دو، یہودی نے یہ شرط بھی منظور کرلی اور صاف ستھرے کپڑے ملا کو لا کر دے دیے۔ ملا نصر الدین یہ بیش قیمت لباس پہن چکا تو کہنے لگا، میاں یہودی، کیا اتنا قیمتی لباس پہن کر پیدل ہی قاضی کی عدالت میں جائوں، لوگ دیکھیں گے تو دل میں کیا کہیں گے، جائو اپنا گھوڑا لے آئو، اس پر سوار ہو کر جائوں گا۔ مرتا کیا نہ کرتا، یہودی نے اپنا گھوڑا بھی ملا کے حوالے کردیا اور ملا صاحب نہایت شان و شوکت سے گھوڑے پر سوار ہو کر قاضی کی عدالت میں پہنچے، مقدمہ پیش ہوا، قاضی صاحب نے دونوں کو غور سے دیکھا۔ ملا نصر الدین کا قیمتی لباس اور سواری کا گھوڑا بھی انہوں نے دیکھا اور یہودی کا لباس بھی اور یہ بھی محسوس کیا کہ وہ پیدل آیا ہے، یہودی نے جب سارا قصہ سنایا تو قاضی صاحب نے ملا نصر الدین سے پوچھا۔ ملا صاحب، تم اس کے الزام کا کیا جواب دیتے ہو، ملا نے جواب دیا، حضور، یہ یہودی میرا پڑوسی ہے اور بڑا جھوا شخص ہے، ابھی تو یہ کہتا ہے کہ میں نے اس کی نو سو ننانوے اشرفیاں ہتھیا لی ہیں اور کچھ دیر بعد کہے گا کہ یہ لباس جو میں پہنے ہوئے ہوں وہ بھی اسے کا ہے۔ یہ سنتے ہی یہودی چلا اٹھا، ہاں جناب، یہ لباس بھی میرا ہے، میں نے اسے پہننے کے لیے دیا تھا۔ ملا نے کہا سن لیا آپ نے، یہ لباس بھی اس کا ہوگیا اور ابھی دیکھیے یہ کہہ دے گا کہ گھوڑا بھی اسی کا ہے۔ یہودی غصے سے چیخ اٹھا، ہاں حضور، یہ گھوڑا بھی میرا ہی ہے، ملا نے مجھ سے سواری کے لیے مانگا تھا۔ قاضی نے جو یہ باتیں سنیں تو یہودی کو ڈانٹ پھٹکار کر نکال دیا اور مقدمہ خارج کردیا۔ یہودی روتا پیٹتا ملا نصر الدین کے گھر پہنچا اور اس کی بڑی منت سماجت کی۔ ملا نے اس شرط پر اس کی اشرفیاں لباس اور گھوڑا واپس کیا کہ وہ آدھی اشرفیاں غریبوں میں بانٹ دے گا اور آئندہ بھی نادار لوگوں کی مدد کرتا رہے گا۔ ملا نصر الدین کے گھر میں بیری کا ایک درخت تھا جس پر بڑے میٹھے بیر لگتے تھے، وہ انہیں دیکھ دیکھ کر بڑا خوش ہوتا اور بڑے فخر سے کہا کرا کہ ساری دنیا میں اتنے بڑے اور میٹھے بیر کہیں نہیں ہوں گے۔ ایک روز اس نے اچھے اچھے بیر چھانٹ کر ایک تھالی میں سجائے، تھالی سر پر رکھی اور بادشاہ کے محل کی طرف چل دیا کہ جا کر اسے یہ تحفہ دے۔ راستے میں بیروں نے تھالی کے اوپر لڑھکنا اور ناچنا شروع کردیا، ملا کو بار بار تھالی کا توازن درست کرنا پڑتا تھا، مگر بیر تھے کہ نچلے نہ بیٹھتے تھے، کبھی ادھر کو لڑھکتے، کبھی ادھر کو، ملا بیروں کی شرارت سے تنگ آگیا اور ایک جگہ رک کر کہنے لگا۔ کم بختو، اگر تم نے ناچنا اور لڑھکنا بند نہ کیا تو میں تم سب کو ہڑپ کر جائوں گا۔ یہ کہہ کر اس نے ایک مرتبہ پھر ترتیب سے بیروں کو رکھا اور تھالی سر پر رکھ کر آگے چل پڑا، لیکن بیروں نے پھر تھرکنا شروع کردیا اب تو ملا کو بڑا طیش آیا، راستے ہی میں ایک درخت کے نیچے بیٹھ گیا اور کہنے لگا۔ اچھا کم بختو، تم یوں نہ مانو گے، لو، اب تماشا دیکھو، یہ کہہ کر اس نے ایک ایک کرکے بیروں کو کھانا شروع کردیا، جب ایک بیر باقی رہ گیا تو ملا نے اس سے کہا، اگر تمہیں ایک موقع اور دیا جائے تو کیا خاموش سے چلو گے۔ بے چارہ بیر اپنے ساتھیوں کا حشر دیکھ چکا تھا، اس لیے وہ چپ چاپ تھالی میں پڑا رہا اور ملا نصر الدین اسے لے کر بادشاہ کے دربار میں پہنچ گیا، اس روز بادشاہ سلامت کا موڈ بہت اچھا تھا، انہوں نے ملا نصر الدین کا تحفہ مزے لے لے کر کھایا اور خوب تعریف کی۔ پھر ملا نے بادشاہ کو دلچسپ لطیفے سنائے جنہیں سن کر اس کے پیٹ میں بل پڑ گئے، شام ہوئی تو ملا نے رخصت ہونے کی اجازت طلب کی، بادشاہ نے اس کی تھالی، ہیروں جواہرات سے بھردی اور ملا ہنسی خوشی گھر آگیا۔ ایک ہفتے تک وہ بڑا خوش رہا، اس کے بعد پھر اسے ہیروں کا لالچ ہوا، وہ سوچنے لگا کہ اس مرتبہ بادشاہ سلامت کے لیے کیا چیز لے جائوں، یکایک اس کی نظر اپنے گھر میں لگے ہوئے سرخ سرخ چقندروں پر پڑی، ملا خوش سے اچھل پڑا اور اس نے یہی تحفہ بادشاہ کے پاس لے جانے کا فیصلہ کرلیا، اس نے جلدی جلدی ڈھیر سارے چقندر توڑ کر اپنی تھالی میں سجائے، تھالی کو سر پر رکھا اور بادشاہ کے محل کی طرف چل پڑا۔ راستے میں اسے ایک دوست ملا جس کا نام حسن تھا، اس نے پوچھا، ملا صاحب، اتنے شاندار چقندر تم کس کے لیے لے جارہے ہو۔ بادشاہ سلامت کو تحفے میں دینے کے لیے ۔ تحفہ اور وہ بھی چقندروں کا، ملا جی، تمہارا دماغ تو نہیں چل گیا، حسن نے کہا۔ کیوں، کیا ہوا، کیا چقندر بادشاہوں کو تحفے میں دیے جانے کے لائق نیہں، ملا نے پوچھا۔ یہ کہہ کر اس نے چقندروں کو غور سے دیکھا، اب اسے محسوس ہوا کہ واقعی چقندر اس قابل نہیں کہ بادشاہ کو تحفے میں دیے جاسکیں۔ اس نے حسن سے پوچھا، بھائی تم ہی کچھ بتائو، میں ان کے بجائے اور کیا چیز لے جائوں۔ انجیر لے جائو، پکے ہوئے رس دار۔ ارے واہ، یہ تو تم نے خوب بتایا ملا نے کہا غضب خدا کا، مجھے پہلے کیوں خیال نہ آیا کہ بادشاہ کے پاس انجیر لے جانے چاہئیں۔ وہ الٹے پائوں بازار کی جانب چلا اور ایک دکان دار سے چقندروں کے عوض پکے پکے رس دار انجیر لے لیے۔ اب سنو، اس روز بادشاہ سلامت کا مزاج بہت گرم تھا، درباری امیر اور وزیر سب سہمے ہوئے تھے، ملا حسب معمول اچھلتا کودتا بادشاہ کے سامنے پہنچا اور تھالی اس کے آگے رکھ دی۔ کیا ہے اس میں، بادشاہ نے گرج کر پوچھا۔ حضور، انجیر ہیں، آپ کے لیے لایا ہوں، ذرا چکھ کو تو دیکھیے۔ بادشاہ کے غصے کا پارہ اور گرم ہوگیا،اس نے کڑک کر سپاہیوں کو آواز دی اور انہیں حکم دیا کہ یہ سب انجیر ملا کے پھینک پھینک کر مارو اور خوب زور زور سے، ملا نے یہ حکم دیا تو سر پر پائوں رکھ کر بھاگا، لیکن سپاہیوں نے اسے پکڑ لیا اور انجیر مار مار کر اس کا منہ سجادیا، جب انجیر ختم ہوگئے تو سپاہیوں نے اسے چھوڑ دیا اور وہ تیر کی طرح وہاں سے رفو چکر ہوگیا۔ راستے میں ملا کو حسن ملا۔ ملا فوراً اس کے گلے سے لپٹ گیا اور کہنے لگا، پیارے بھائی، اگر میں تمہاری نصیحت نہ مانتا تو میری ہڈی پسلی ایک ہوجاتی، خدا تمہیں جزائے خیر دے۔ حسن نے ملا کی یہ حالت دیکھی تو اسے سخت تعجب ہوا اور کہنے لگا آخر کچھ بتائو تو کیا واقعہ پیش آیا۔ ارے بھائی، بس بال بال بچ گیا، خدا تمہارا بھلا کرے، میں نے تمہاری نصیحت مان لی۔ کون سی نصیحت، حسن نے جھنجھلا کر پوچھا۔ ارے بھائی، وہی چقندروں کے بجائے انجیر لے جانے کی، اف خدایا، اگر میں وہ بڑے بڑے لوہے جیسے سخت چقندر لے جاتا اور بادشاہ کے سپاہی وہ مجھ پر پھینکتے تو سچ مانو، میرا تو کچومر ہی نکل جاتا، خدا کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ میں نے تمہاری رائے پر عمل کیا۔۔۔۔۔ ورنہ چقندر۔۔۔۔۔۔ توبہ توبہ۔۔۔۔۔۔ پیارے بھائی، اللہ تمہیں اس کا اجر دے۔
{[['']]}

پھانسی قرب عبّاس


"پھانسی"

یہ کہانی دھند نے لکھی ہے اور آپ تو جانتے ہیں کہ دھند ہمیشہ ظالم کہانیاں لکھتی ہے۔
جو ابھی ابھی سفید گاڑی یہاں سے گزری ہے، اس میں سوار تین لوگ اس کوشش میں ہیں کہ صبح ہونے سے پہلے سپریم کورٹ تک پہنچ جائیں۔ دورانِ سفر جرم اور مجرم انکا موضوع ہے۔۔۔ اس گاڑی کو بہت دور جانا ہے۔ لیکن۔۔۔ دھند گہری ہے، بہت گہری ہے۔۔۔ کہ جیسے جہالت ہو۔۔۔ جہالت جیسی گہری دھند میں اس گاڑی کی رفتار بیس کلو میٹر فی گھنٹہ سے بھی کم ہے۔ یعنی بہت آہستہ، بہت سست۔۔۔ بالکل ایسے ہی سست جیسے کسی بد نظم معاشرے کا نظام ہو۔۔۔
عبداللہ ڈرائیور کی آنکھیں دھند کو کاٹ کر سامنے سڑک پر راستہ تلاش کر رہی ہیں، ساتھ ہی سیٹ پر بیٹھے وکیل صاحب اپنے ہاتھوں کو بغلوں میں دبائے، سمٹے بیٹھے ہیں اور پچھلی سیٹ پر ایس ایچ او دین الہیٰ دراز ہے۔
کل عدالت میں کسی کی زندگی اور موت کا فیصلہ ہے اور یہ تنیوں لوگ اس فیصلے کیساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ دلیلوں اور ثبوت میں وزن ہوا تو موت یقینی ہے، لیکن اگر ڈرائیور نے کوتاہی دکھائی اور گاڑی وقت پر نہ پہنچ سکی تو ایک مجرم کی زندگی کے امکانات پختہ ہوسکتے ہیں۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
وکیل صاحب نے اپنے اکٹرے ہوئے جسم کو ڈھیلا چھوڑا اور ایک گہری سانس لے کر بہت پُرفکر انداز میں بولے؛
"اکثر سوچتا ہوں۔۔۔ کہ مجرم بڑی سے بڑی سزا سے بھی کیوں نہیں ڈرتا؟ وہ جرم سے توبہ کیوں نہیں کرلیتا؟"
پچھلی سیٹ پر لیٹے ایس ایچ او کی آواز جو قدرے بھاری تھی، سنائی دی؛
"او جی۔۔۔ بے غیرت ہوتے ہیں یہ لوگ۔۔۔ جرم انکی عادت میں ہے، ماں باپ کی تربیت ہی ایسی ہوتی ہے۔ کچھ حرام کھانے کی لت بھی پڑ جاتی ہے۔"
وکیل صاحب کو جواب نامعقول لگا، انھوں نے گردن گھما کر پیچھے دیکھا تو ایس ایچ او سگریٹ کی ڈبیا میں سے سگریٹ نکال رہا تھا۔
گاڑی میں دیا سلائی جلتے ہی مٹیالی روشنی پیدا ہوئی، جس میں ایس ایچ او کا کالا چہرہ واضح دکھائی دینے لگا۔
سگریٹ جلانے کے بعد وہ بولا؛
"او جی ہم نے بڑے بڑے کمینوں کو مارا ہے۔ جب ڈپٹی صاحب ہوتے تھے تھانے میں تو سیدھا اِن کاؤنٹر ہوتا تھا۔"
اس نے بات کہہ کر کش لگایا، دھواں باہر چھوڑا جو کہ ایک قہقہے نے غائب کر دیا؛
"ایک دفعہ جی۔۔۔ میں نے بڑے مشہور قاتل کو پکڑا۔ حرامزادے نے نو قتل کیے ہوئے تھے۔ کسی کے ہتھے نہیں چڑھتا تھا۔ پکڑ لیا۔۔۔ وہ دو راتیں تھانے میں رہا۔۔۔ اس کے آڈر آگئے۔۔۔ آڈر سرکاری نہیں۔۔ ڈپٹی صاحب کے۔۔۔ ہم موٹر وے کے پار اسے لے گئے اور وہاں جا کر کہا بھاگ جا۔۔۔ اتنا کمینہ تھا۔۔۔ بولا تم مجھے مارنے آئے ہو، میری زندگی لینے۔ اور میں تمہارا ہی حکم مانوں؟ نہیں بھاگتا۔۔۔ سینے پر گولی مارو۔۔۔
ہم نے تو کام ہی کرنا تھا جی۔۔۔ بس میں نے گولی چڑھائی اور کنپٹی پر پستول رکھ کر بولا کہ چل فیر۔۔۔ پڑھ لے کلمہ
اس بےغیرت کی آنکھوں میں ڈر نہیں تھا ۔۔۔ بولا کس کا کلمہ؟ جس سے زندگی مانگی اور دے نہیں سکا؟ کہانیاں نہ ڈال سیدھی گولی مار اور ختم کر قصے کو۔
لو جی۔۔۔ میں نے گھوڑا دب دیا۔۔۔ اسکا بھیجا نکل کر وہ پار دوسرے بَنے پر گرا۔"
ایس ایچ او نے بات ختم کرتے ہی ایک قہقہہ لگایا۔۔۔ وکیل صاحب کا بے تاثر چہرہ اٹھا اور اندھیر میں اسکا منہ تلاش کرنے لگا۔ ڈرائیور دونوں ہاتھوں میں سٹئرنگ تھامے نظریں سامنے گاڑے دھند میں سے راستہ تلاش کر کے گاڑی کو رفتہ رفتہ آگے لیے جا رہا تھا۔
"لو جی ایک ہور سنو۔۔۔ ہم نے تین لوگوں کے اِن کاؤنٹر کیے۔ لاشیں اٹھا کر تھانے کے صحن میں رکھ دی۔ سردیوں کے دن تھے۔۔۔ ہوا کیا جی۔۔۔ رات کوئی ایک بجے کا وقت تھا۔ ہم کمرے میں بیٹھے ہیٹر سیک رہے تھے اور ان لاشوں میں سے ایک اٹھ کھڑی ہوئی۔"
ایس ایچ اور نے ایک بھرپور قہقہہ لگایا، وکیل صاحب نے ایک مرتبہ پھر اسکے تاثرات دیکھنے کی کوشش میں اپنی گردن پیچھے گھمائی۔
"ادھر تو سب نے شور مچا دیا۔ بندے کو چار فیر لگے تھے جی۔۔۔ اور جب وہاں سے اٹھا کر لائے تھے تو مرا ہوا تھا۔۔۔ اب مرا ہوا بندہ اٹھ کھڑا ہو۔۔۔ تو بڑے بڑوں کا مُوت نکل جاتا ہے۔ ادھر تو بھکل مچ گیا۔ میں نے فیر بندوک لی اور پہلے ایک فیر کیا۔۔۔ وہ اسے لگا نہیں۔ دوسرا کیا تو سیدھا سینے پر لگا۔ لو جی دوبارہ مر گیا، حیرانی کی بات ہے جی۔"
وکیل صاحب کے منہ سے صرف "ہوں" نکلا اور وہ سیدھے ہو کر بیٹھ گئے۔
گاڑی گہری دھند کاٹتے ہوئے بہت سست روی کے ساتھ آگے بڑھ رہی تھی۔ وکیل صاحب نے اپنے ہاتھوں کو گرم کرنے کے لیے آپس میں رگڑا اور بولے؛
"دیکھو کل کیا ہوتا ہے۔۔۔ اس بندے کو پھانسی کی سزا ہو جائے گی۔ پاگل پن کی ایکٹنگ کرتا ہے، دراصل وہ پاگل ہے نہیں۔"
وکیل صاحب کے فوراً بعد ایس ایچ او بولا؛
"جی جی۔۔۔ یہ حرامی لوگ ہوتے ہیں جی۔۔۔ مکر کرتے ہیں بین چو۔۔۔"
ڈرائیور جو کافی دیر سے ساکت و خاموش تھا اور آنکھیں بڑی کیے، اسٹئرنگ پر جھکے دھند میں سے راستہ تلاش کرتے آگے بڑھ رہا تھا، حرکت میں آیا۔ اس نے بیک ویو میرر میں سے ایس ایچ او کو دیکھنے کی کوشش کی لیکن پیچھے بالکل اندھیرا تھا۔ پھر اپنی کمر کو سیٹ کے ساتھ ٹکا کر بولا؛
"سر جی۔۔۔ کیا پھانسی۔۔۔ مجرم کے ساتھ ساتھ جرم کو بھی مار دیتی ہے؟"
اس نے سوال وکیل صاحب سے پوچھا تھا، وکیل صاحب نے اِسکی بات سنتے ہی ہاتھ بغلوں میں دبائے اور بولے؛
"کہاں مرتا ہے جرم۔۔۔ جرم تو باقی رہتا ہے، اتنی پھانسیاں ہوتی ہیں۔ قتل، زنا، چوریاں تو پھر بھی ہوتے رہتے ہیں۔ جرم تو اپنی جگہ پر رہتا ہے، بس مجرم ہی مرتاہے۔"
"سر جی۔۔۔ میں نے اپنی زندگی میں بس ایک ہی پھانسی دیکھی ہے۔ بڑی عجیب۔۔۔ بہت ہی ڈراؤنی پھانسی۔۔۔ اور میں جب بھی اس کے بارے میں سوچھتا ہوں تو دن کی روشنی میں بھی ڈر لگنے لگتا ہے۔"
وکیل صاحب ڈرائیور کی بات سن کر اس کی جانب کھسکے؛
"اچھا؟ ایسا کیا تھا اس پھانسی میں؟"
"بہت بھیانک تھی سر جی۔
میں نے بی اے پاس کرنے کے بعد بہت جگہ کام کیا۔ میری کسی سے بنتی نہیں تھی۔ ہر بار نوکری سے نکال دیا جاتا تھا اور پھر نوکری آسانی سے ملتی بھی کہاں ہے۔ دوستوں یاروں نے مشورہ دیا کہ ٹیکسی لے لوں۔ میں نے قسطوں پر ایک ٹیکسی لے لی۔ دن چلاؤں رات چلاؤں اپنی مرضی ہوتی تھی۔ ٹیکسی کی سواریاں بھی کم ہی ہوتی ہیں۔ مجھ سے زیادہ تو رکشے والے کما لیتے تھے۔
پر پھر بھی دن میں کوئی پانچ سات سواریاں بھی مل جائیں تو اچھی دھاڑی لگتی تھی۔ زیادہ وقت فارغ رہتا تھا۔ میں نے اڈے پر ایک چھپڑ ہوٹل پر بیٹھنا شروع کر دیا۔ کبھی اخبار پڑھ لیتا تھا کبھی ٹی وی پر خبریں سن لیتا تھا، سواری آگئی تو اسے اسکی جگہ پر پہنچا کر واپس وہیں پر بیٹھ جاتا تھا۔"
اتنا کہہ کر ڈرائیور خاموش ہوگیا، وکیل صاحب ڈرائیور کی خاموشی دیکھتے ہوئے بولے؛
"اچھا تو پھر۔۔۔؟ تم پھانسی کے بارے میں کچھ کہہ رہے تھے۔"
"جی سر جی۔ میں نے اُسے اسی اڈے پر دیکھا تھا۔ وہ تب ہوگا کوئی پانچ سال کا۔ گرمیاں تھیں جب وہ ناریل بیچ رہا تھا۔ رات کے ایک بجے۔
ایک بندے نے کرنڈی کا سوٹ پہنا ہوا تھا، ہاتھ میں بیگ تھا۔ بڑی جلدی میں تھا، بس کی طرف تیز قدموں سے چلتا ہوا جا رہا تھا کہ اس بچے سے ٹکر ہوگئی، سارے ناریل نیچے گر گئے۔ بچے نے ناریل اٹھائے اور پلیٹ میں رکھے، جس ہوٹل کے بینچ پر میں بیٹھا تھا ساتھ ہی ٹونٹی سے دھونے لگا۔
سر جی۔۔۔ اُس رات میں نے اس کے منہ پر جو نیند اور بھوک دیکھی تھی، وہ میں نہیں بھول سکتا۔ کبھی بھی نہیں بھول سکتا۔"
وکیل صاحب نے سر اثبات میں ہلایا؛
"ٹھیک کہتے ہو۔۔۔ نیند اور بھوک ایسی ظالم چیزیں ہیں جو اپنی ضد منوا کر رہتی ہیں۔ جب تک کھاؤ گے نہیں چین نہیں آئے گا، جب تک سو نہیں جاؤ گے تو تکلیف میں رہو گے۔ ان سے پیچھا نہیں چھڑوایا جا سکتا۔ اچھا پھر؟"
ڈرائیور نے دوبارہ بولنا شروع کیا؛
"پھر کیا جی۔ اس دن کے بعد وہ بچہ میری نظر میں آگیا۔ پہلے کبھی میں نے غور نہیں کیا تھا لیکن پھر تو اخبار یا ٹی وی کی طرف میری توجہ اس وقت جاتی جب وہ اردگرد نہیں ہوتا تھا۔ گرمیاں گزر گئیں، سردیاں آگئیں۔ اور وہ انڈے بیچنے لگا۔ ایک ایک سواری کے پیچھے بھاگتا اور منتیں کرتا۔"
وکیل صاحب نے ڈرائیور کی بات کاٹی؛
"اس کا باپ نہیں تھا؟"
"کہتے ہیں جی نشے کرتا تھا۔ کچھ مہینے پہلے کہیں سے اسکی لاش ملی تھی۔ پہلے تو ان کے پاس رہنے کو چھت تھی لیکن جب کرایہ نہ دیا تو مالک مکان نے سامان اٹھا کر باہر پھینکا اور انھوں نے اڈے میں ہی ایک طرف پڑے خالی کنٹینر کو اپنا گھر بنا لیا۔
میونسپل کمیٹی والے آئے تو انھوں نے پہلے آرام سے خالی کرنے کو کہا، تین چار دن جب کنٹینر خالی نہیں کیا تو بستر گھٹڑی برتن اٹھا کر باہر مارے۔۔۔ اور کنٹینر کو کرین کے ساتھ وہاں سے اٹھا کر جانے کدھر لے گئے۔ پھر وہ انہی سردیوں میں ایک کھوکھے کی آڑ میں بیٹھنے لگے۔
ماں تھی کہ چھوٹی سی بچی کو گود میں لٹائے، سر پر ڈوپٹہ باندھے دیوار سے لگ کر بیٹھی رہتی اور کھانستی رہتی۔ وہ ابلے انڈے بیچتا پھرتا۔ روٹی کے وقت پر روٹی لیتا جا کر ماں کو کھلاتا خود کھاتا۔ پھر ایک دن، اسکی ماں کو خون کی الٹی آئی اور اسکی کھانسی چپ ہوگئی، پر بہن نے رونا شروع کر دیا۔ دن رات روتی رہتی تھی۔ وہ اسے وہیں لٹا کر آس پاس انڈے بیچتا رہتا، نظر اسکی ایک جگہ ہی ٹکی رہتی تھی۔انڈے نکال کر دیتے ہوئے، پیسے پکڑتے ہوئے۔ گاہک کے بلانے پر اس کے پاس جاتے ہوئے۔۔۔ اسکی نظر اسی کھوکھے کی طرف رہتی تھی جہاں بہن کر لٹا کر آتا تھا۔ اس کے گاہک کچھ کم ہوگئے تھے۔
ایک دن میرے ساتھ بیٹھے بندے نے اسے بلا کر پوچھا انڈا کتنے کا ہے؟ اس نے پیسے بتائے تو وہ بندہ کہنے لگا کہ ایک دے دو۔ جب برتن میں سے انڈا نکالا تو اسکا چھلکا کہیں سے اترا ہوا تھا کہیں سے لٹک رہا تھا۔ چھلکے کی چھوٹی دراڑوں میں جگہ جگہ میل پھنسی ہوئی تھی۔ اتنا غلیظ انڈا کون لینا چاہے گا جی؟ کون کھائے گا؟ بندے نے اس سے پیسے واپس لیے اور انڈا نہ خریدا۔ میں بھی ہوتا تو یہ کام ہی کرتا ۔۔۔ پر پیسے واپس نہ لیتا۔
کچھ مہینے بعد وہ روٹی مانگ کر کھانا سیکھ گیا تھا، جو مسافر ہوٹل پر کھانا کھانے بیٹھتے تو پہلے انہیں انڈے بیچنے کی کوشش کرتا و ہ نہ مانتے تو کہتا صاحب روٹی کھانی ہے، کئی خدا ترس لوگ ہوتے تھے جو اسے روٹی لے دیتے تھے۔ اب بس ایک ہی خرچہ تھا کہ وہ بہن کے لیے دودھ خریدتا تھا اور اسکی بہن، کبھی چپ نہیں ہوتی تھی، روتی رہتی تھی روتی رہتی تھی۔۔۔ وہ چپ کروانے کی کوشش میں رہتا تھا، لیکن اس سے کہا چپ ہوتی تھی۔
وہ جو اڈا تھا نا سر جی۔ اس کے پاس ہی ایک طرف چھوٹا سا پارک تھا، جہاں پھول لگے ہوئے تھے، گھاس۔۔۔ اور اردگرد گرل لگی ہوئی تھی۔ وہاں پرکچھ اور بچے بھی آکر رہنے لگے تھے۔ اسی جیسے بچے۔ کوئی ٹافیاں بیچتا تھا، کوئی نمکو دال۔ کوئی بچوں کے چھوٹے چھوٹے کھلونےاور کئی بھیک بھی مانگتے تھے۔
اسی پارک میں جہاں گورمنٹ نے پھول لگائے تھے وہاں پر کئی پوڈری رات کو آکر لیٹ جاتے، نشے کے ٹیکے لگاتے۔ اور پڑے رہتے۔
خیرجی۔۔۔ ان دنوں میں اس طرح کی سردی تھی، دھند بھی بڑی ہوتی تھی۔ کچھ دن دھوپ نکلی، لیکن پھر بارشیں ہونے لگیں۔
اس کے بعد وہی دھند اتر آئی۔ ایک رات میں چھپڑ ہوٹل پر بیٹھا چادر لپٹ کر چائے پی رہا تھا کہ دیکھا اسکی بہن بہت رو رہی ہے۔ وہ ہوٹل والے کے پاس آیا اور اس سے دودھ مانگنے لگا۔ ہوٹل والے نے انکار کیا تو میرے جی میں آیا کہ میں لے دوں دھیان جیب کی طرف گیا تو یاد آیا کہ جو پیسے جیب میں تھے اسکی چائے لے کر پی چکا ہوں اور اب خود کسی سواری کے انتظار میں بیٹھا ہوں۔ خیر وہ واپس جا کر اسے پھر چُپ کروانے لگا، اتنے میں مجھے ایک سواری مل گئی، میں نے اس سے پیسے طے کیے اور کہا کہ مہربانی ہوگی اگر کچھ ابھی دے دو۔ پیسے لے کر ہوٹل والے سے کہا کہ کسی کے ہاتھ بچے کو دودھ پہنچا دے۔ خود سواری لے کر چلا گیا۔"
ڈرائیور خاموش ہوگیا۔ دھند کچھ زیادہ گہری ہو چکی تھی۔ اسکی نظریں راستہ تلاش کرتے کرتے تھک رہی تھیں، بوجھل پن اسکے چہرے پر واضح دکھائی دے رہا تھا۔ وکیل صاحب کچھ وقت کے لیے تو اسکے بولنے کا انتظار کرتے رہے پھر بولے؛
"لیکن اس سارے واقعے میں پھانسی کا ذکر کہاں ہے۔۔۔ اسے پھانسی کیوں ہوئی؟"
ڈرائیور سوال سن کر کچھ پل کے لیے چپ رہا پھر کہنے لگا؛
"سر جی۔ پھانسی سے پہلے کیا ہوا وہ سنیں۔ میں نے اس رات سواری اتاری اور پھر گھر چلا گیا۔ اگلے دن دوبارہ اڈے پر آیا تو وہ بالکل چپ تھا۔ اس کے منہ پر اداسی تھی۔ اس کے منہ پر وہ نیند نہیں تھی، وہ بھوک نہیں تھی۔ بس اداسی تھی۔ وہ بیٹھا ایک بت سا لگ رہا تھا۔ اس کے آس پاس اسکی بہن نہیں تھی۔ وہ مر گئی تھی۔"
گاڑی کے سامنے دھند کا ایک دیو سا ظاہر ہوا، ڈرائیور نے بریک دبائی۔ گاڑی ایک جھٹکے سے رکی اور پھر اسی سست رفتار سے چلنے لگی۔
"پھر سر جی۔ میں کئی مہینے وہاں پر رہا۔ اس نے انڈے بیچے نہ ہی ناریل۔ بس وہ اداس منہ لے کر کبھی کہیں بیٹھا نظر آتا کبھی کہیں۔ اس کے کپڑے میلے ہونے لگے۔ اسکے بال بڑھنے لگے۔ کبھی ہنسا نہ مسکرایا۔ بس جہاں بیٹھا ہوتا، سامنے گھورتا رہتا۔ ایک سردی میں اسے سخت بخار بھی ہوا۔۔۔ وہ سینے پر ہاتھ رکھ کر زور زور سے کھانستا، دوسرے ہاتھ سے گلے کو پکڑ لیتا۔۔۔ سردی سے ٹھٹھرتا رہتا۔۔۔ کانپتا رہتا۔۔۔ لیکن منہ پر اداسی اسی طرح رہتی۔ شکل میں کوئی فرق نہیں آتا تھا۔ میں اسے دیکھنے کے سوا کیا کر سکتا تھا؟ بس ایک طرف بیٹھا دیکھتا رہتا تھا۔
میں جب تک وہاں رہا میں نے اسی حال میں اسے دیکھا۔ پھر جب مجھے نوکری مل گئی تو میں نے ٹیکسی چلانی چھوڑ دی۔ پر وہ ایک نوکری چھوڑ، تین جگہ کام کیا۔۔۔ جیسے پہلے نہیں بنتی تھی تب بھی کسی سے نہ بنی تو نوکریاں چھوڑتا رہا۔ آخر سات سال کے بعد دوبارہ پرانے کام کی طرف آگیا۔ ٹیکسی چلانی شروع کر دی۔ اس بار جب میں اڈے میں آیا تو وہ بالکل بدل چکا تھا۔ نہیں بلکہ اسکا صرف قد ہی لمبا ہوا تھا باقی منہ پر وہ اداسی اسی طرح تھی۔ اداسی کی تو ایک شکل ہوتی ہے جی۔ نہ عمر بڑھتی ہے نہ ہی شکل بدلتی ہے۔ اسکی شکل تو اپنی تھی بھی نہیں۔ اداسی اسکی شکل ہوگئی تھی اور وہ سات سال کے بعد بھی مجھے ویسا ہی نظر آیا۔ اسکے کپڑے پھٹے ہوئے تھے، غلیظ ہوگئے تھے، پاس سے گزرتا تھا تو بدبو آتی تھی۔ بال بڑھ چکے تھے اور یوں لگتا تھا کہ جیسے مٹی میں سر دے کر آیا ہے۔ اسی طرح تھا کسی سے بات نہیں کرتا تھا بس چپ چاپ گھومتا رہتا تھا یا بال کھجاتا رہتا تھا۔ انگلیوں میں انگلیاں پھنسا کر انگوٹھے گھماتا رہتا تھا۔
وہاں پر جو پارک بنایا تھا اس کے اندر اب گھاس نہ پھول۔۔۔ جو لوہے کی گرل تھی وہ بھی وہاں نہیں تھی۔ بس کیاریوں میں ٹیکے پڑے ہوتے تھے اور ان ٹیکوں کی طرح نشئی۔ اڈے پر گاڑیوں کا شور بڑھ گیا تھا، سڑک زیادہ ٹوٹ چکی تھی، بھیک مانگنے والے بچے بڑھ گئے تھے، چھوٹی موٹی چیزیں بیچنے والے بھی زیادہ تھے۔بھوک بھی بڑھ گئی تھی اور نشئی بھی۔ وہ بھی ان نشئیوں کے ساتھ ویسا ہی لگتا تھا۔ میرا خیال ہے نشہ نہیں کرتا تھا۔ ہاں وہ نشہ نہیں کرتا تھا۔"
ڈرائیور بات کرتے کرتے اس وقت رک جاتا جب دھند گہری ہوتی، ڈرائیور کی آواز ختم ہوتی تو ایس ایچ او کے خراٹے واضح سنائی دینے لگتے۔ وہ ہر بات سے بے فکر گہری نیند سو رہا تھا۔
ڈرائیور نے سامنے والے دھندلے شیشے پر کپڑا پھیر کر اسے صاف کیا اور بولا؛
"سردیاں ہی تھی جب میں نے دوبارہ ٹیکسی چلانی شروع کی تھی، عجیب کام ہوا۔۔۔ وہاں کے چھوٹے بچے ایک ایک کرکے مرنے لگے۔ ایک دن پہلے چنگے بھلے ہوتے اگلے دن صبح ان کا پھولا ہوا جسم فٹ پاتھ پر پڑا ہوتا تھا۔ ہفتے میں ایک آدھی لاش اٹھا کر دو چار لوگ پاس کے قبرستان میں دفن کر آتے تھے۔ پر سب کے اندر ایک خوف سا تھا کہ ایسی کیا بیماری آگئی ہے کہ جو ایک رات میں بچے کو نگل جاتی ہے اور صبح لاش پھول کر اتنی خوفناک ہو جاتی ہے اور صرف بچے ہی کیوں مرتے ہیں؟
کام بڑھتا گیا، فٹ پاتھ پر بچے گھٹتے گئے۔ لوگوں کو زیادہ خوف آنے لگا۔ پر سر جی۔۔۔ اسکے منہ پر وہی اداسی رہی۔ اسکی شکل بدلی نہ انداز۔ اس نے کسی سے بات کی نہ کسی سے کچھ مانگا۔
بس پھر ایک صبح میں اڈے پر چائے پی رہا تھا کہ اچانک شور مچا۔ ایک رش سا لگ گیا، میں بھی پیالی رکھ کر اس رش میں چلا گیا۔ دیکھا تو وہ وہاں پر الٹا پڑا ہوا تھا اور لوگ اسے لاتیں مار رہے تھے۔ اسے کسی نے بچے کو ٹیکا لگاتے ہوئے دیکھ لیا تھا۔۔۔"
وکیل صاحب چونک گئے؛
"اوہ مائی گاڈ۔۔۔ بچوں کو وہ مار رہا تھا؟"
"جی سر جی۔ وہ ان فٹ پاتھ کے بھوکے ننگے بچوں کو ٹیکے لگا کر مارتا رہا۔ کئی بچوں کی جان لی، کئی دلوں میں خوف بھر دیا۔ مجھے تو لگتا ہے کہ لوگ اسے اس لیے نہیں مار رہے تھے کہ اس نے بچوں کی جان لی، اس لیے مار رہے تھے کہ اس نے انھیں ڈرایا بہت تھا۔ اس دن مجھے پتا چلا کہ ان لاوارث بچوں کے کتنے وارث ہیں۔ پورا اڈا ہی ایسے لگ رہا تھا کہ جیسے ان بچوں کا ماں باپ ہے۔ وہ چپ چاپ مار کھا رہا تھا۔ نہ کوئی آواز نہ کوئی چیخ۔۔۔ اسے لوگوں کی لاتوں کی تکلیف نہیں ہو رہی تھی۔ لگتا تھا کہ وہ کسی بوری کو مار رہے ہیں۔ اس کے منہ سے، ناک سے کان سے خون نکل رہا تھا۔ پر اسکے منہ پر وہ اداسی اسی طرح تھی۔
پھر سر جی۔ اس فٹ پاتھ سے مارتے ہوئے، گھسیٹتے ہوئے لوگ پارک میں لے آئے۔ میں دیکھنے کے سوا کچھ بھی نہیں کر سکتا تھا، دیکھتا رہا۔ ساتھ ساتھ چلتا رہا۔
گالیوں کے شور میں سے ایک آواز آئی، اس حرامزادے کو لٹکا دو تاکہ سب کو پتا چلے کہ بچوں کا قتل کرنے کی سزا کیا ہوتی ہے۔ میرے پورے وجود میں ایک لہر سی اٹھی، اور خود سے کہا بول۔۔۔ عبداللہ۔۔۔ اب تو کچھ بول۔۔۔ اتنے سالوں سے چپ ہے اب ہی بول پڑ۔۔۔ پر سر جی بولا نہیں گیا۔ اس شور کو دیکھ کر اس ہنگامے کو دیکھ کر میرے منہ پر تالہ سا لگ گیا تھا۔ میں چپ تھا۔۔۔ اور سب کچھ دیکھ رہا تھا۔ رسہ بھی آگیا، سامنے پارک میں لگے ہوئے پول کے ساتھ باندھ بھی دیا اور اس بدنصیب کو گھسیٹ کر اسی طرف لے جانے لگے۔ اس نے سر اٹھایا اور سامنے لٹکتے پھندے کو دیکھا جو ابھی کچھ دور تھا اور پھر اسکی نظریں ادھر ہی جم گئیں۔ ابھی دو قدم پیچھے ہی تھے کہ اس کا بے خوف چہرہ ایک طرف ڈھلک گیا۔۔۔ جسم بے جان ہوگیا۔۔۔"
گاڑی میں ایس ایچ او کے خراٹوں سے بھی زیادہ اونچی دو آہیں سنائی دیں۔
"جن لوگوں نے اسے پکڑا ہوا تھا وہ رک گئے۔ ایک بولا یہ تو بے ہوش ہوگیا۔۔۔ دوسرےنے اس کو زمین پر لٹایا اور کہا مر گیا ہے۔۔۔ تیسرا رش میں سے نکل کر آگے آیا اور بولا۔۔۔ مکر کر رہا ہے مادرچو۔۔۔ چوتھا بولا اسے لٹکاؤ، تاکہ سب کو پتا چلے کہ انجام کیا ہوتا ہے۔ شور پھر بڑھنے لگا۔ کوئی کچھ کہہ رہا تھا، کوئی کچھ۔۔۔ اور میں ایک طرف کھڑا چپ چاپ دیکھ رہا تھا۔
اس بے جان جسم کو اٹھایا اور رسے کے ساتھ لٹکا دیا۔
عجیب پھانسی تھی سر جی۔۔۔ میری سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ سامنے اداسی کی شکل والی لاش۔۔۔ جو رسے پر جھول رہی تھی۔۔۔ کس کی تھی؟
مجرم کی۔۔۔؟
جرم کی۔۔۔؟
بھوک کی۔۔۔؟
نیند کی۔۔۔۔؟
یا۔۔۔۔ یا۔۔۔ انصاف کی۔۔۔۔؟"
ڈرائیور نے آخری الفاظ ادا کر نے کے بعد گاڑی کو سڑک کے ایک کنارے پر لا کر بریک لگا ئی اور پیشانی سٹئیرنگ پر ٹکا دی۔۔۔ پچھلی سیٹ پر ایس ایچ او کے خراٹوں کی آواز ابھی تک اسی طرح آرہی تھی۔ وکیل صاحب کافی دیر تک ڈرائیور کی طرف تکتے رہے۔ اور پھر بولے؛
"گاڑی کیوں روک دی؟"
ڈرائیور نے سر اٹھایا اور سامنے دیکھتے ہوئے بولا؛
"سر جی۔۔۔۔ اب گاڑی اور آگے نہیں چل سکتی۔۔۔ دھند بہت زیادہ ہے۔۔۔"
قُربِ عبّاس
لاہور، پاکستان
{[['']]}

انسان سازقُربِ عبّاس

انسان ساز
میری عمر تقریباً اٹھارہ برس کی رہی ہوگی کہ اپنے کمرے میں سفید لباس پہنے بیٹھا ایک "فحش" کہانی پڑھ رہا تھا۔
ایک ایسی رنڈی کی کہانی جو اپنے میلی دیواروں والے کمرے میں ساگوان کے چوڑے پلنگ پر منہ میں سستی شراب کی کڑواہٹ لیے سو رہی تھی۔ اس کے کمرے کے ماحول کا جو منظر تراشا گیا اس سے گھِن آنے کے باوجود کہانی پڑھتا چلا جاتا ہوں۔۔۔ اختتام پر میں جو ایک رنڈی کو معاشرے کا سب سے زیادہ بد اور گھٹیا کردار سمجھتا تھا، اپنے نظریات اور پھر اپنے انسان ہونے پر ندامت محسوس کر نے لگتا ہوں۔۔۔ بالکل ساکت ہو کر رہ جاتا ہوں۔۔۔۔
اسی سکوت کے دوران میں ایک کمزور سا شخص موٹے عدسوں والی عینک لگائے کمرے میں داخل ہوتا ہے، وہ کیا کرتا ہے کہ مجھے "ٹوبہ ٹیک سنگھ" کے ایک پاگل بشن سنگھ سے ملواتا ہے اور سوال اٹھاتا ہے۔۔۔ جواب نہ پا کر پھر "کھول دو" کی سکینہ سے ملواتا ہے اور سوال کرتا ہے۔۔۔میں خاموش رہتا ہوں اور مسلسل خاموش رہتا ہوں۔۔۔ پھر وہ میرا ہاتھ تھام کر مجھے موذیل کے پاس لے جاتا ہے اور کبھی کلونت کور کے پاس۔۔۔ وہ دراصل میرے سماج کی بدبودار اور کیچڑ والی گلیوں میں سے گزارتا ہے، جگہ جگہ پاؤں پھسلتے ہیں کبھی وہ گرتا ہے کبھی میں گرتا ہوں۔۔۔ نصاب کی لانڈری میں دھلے میرے نظریات کا سفید لباس کیچڑ سے لت پت ہو جاتا ہے۔۔۔۔
جب کمرے میں واپس لوٹتے ہیں تو ہر طرف دھواں دھواں ہے۔۔۔ میرےماتھے پر پسینہ ہے میرے گوشت کے ریشے ٹھنڈے پڑ چکے ہیں۔۔۔ اور پھر وہ مجھے ایک آئینے کے سامنے لے جاتا ہے اور کہتا ہے؛
" لو دیکھو۔۔۔اب دیکھو تم کہاں ہو۔۔۔ تم کیا ہو۔۔۔"
میں کبھی اس کی جانب دیکھتا ہوں کبھی آئینے میں اپنے عکس کو۔۔۔ میرا چہرہ کس قدر گندا ہے۔۔۔ میں کتنا غلیظ ہو چکا ہوں۔
ابھی اسی حیرانی میں ہوں کہ وہ آخری سوال کی ضرب لگاتا ہے کہ؛
"بتاؤ کیا میں سچ میں فحش نگار ہوں؟ "
میں پھر اسی طرح خاموش ہوں۔۔۔ ندامت میرے چہرے پر واضح ہے، میرا خالی پن بھانپتے ہوئے وہ میری ہتھیلی پر کائنات رکھ کر مجھے احساس دلاجاتا ہے کہ میں کتنا امیر ہوں۔۔۔
اسی لمحے میرے اندر ایک نیا انسان ابھرتا ہے۔ بالکل نیا اور تازہ۔۔۔
میں ایک نئی شکل لیتا ہوں۔۔۔ جو اصل ہے۔۔۔ جو فطرت کے قریب ہے۔۔۔
نظریات کے سانچے میں ڈھلے اس قُربِ عبّاس کی موت ہو جاتی ہے۔۔۔ اور پھر جو پیدا ہوتا ہے اس کا کوئی ملک ہےنہ مذہب، کوئی ذات ہے نہ کوئی قبیلہ۔۔۔
میں دنیا کے ہر ملک کو اپنا ملک سمجھنے لگتا ہوں، ہر قبیلہ میرا قبیلہ بن جاتا ہے۔۔۔ اور فطرت سے محبت میں مبتلا ہو جاتا ہوں۔
لوگ اسے فحش نگار کہتے ہیں، گستاخ کہتے ہیں۔۔۔ سرپھرا بھی سمجھتے ہیں۔۔۔ لیکن میری نظر میں تو وہ "انسان ساز" ہے۔۔۔
کہتے ہیں سعادت حسن منٹو گیارہ مئی کو پیدا ہوا تھا۔۔۔ ہوا ہوگا۔۔۔ لیکن میں سمجھتا ہوں کہ وہ صرف دنیا میں آیا تھا، پیدا تو وہ اس وقت ہوا تھا جس دن اس نے اپنا کتبہ اپنے ہاتھوں سے لکھا تھا؛
" یہاں سعادت حسین منٹو دفن ہے۔ اس کے سینے میں فن افسانہ نگاری کے بارے میں اسرار و رموز دفن ہے….
وہ اب بھی منوں مٹی کے نیچے سوچ رہا ہے کہ وہ بڑا افسانہ نگار ہے یا خدا۔"
قُربِ عبّاس
11 مئی، 2015
{[['']]}

Dracula By Javed Bukhari

Title: Dracula
Author: Javed Bukhari
Price: Free
Type: Novel Book
Mediafire: Dracula
4shared: Dracula

Urdu Title: ڈریکولا جاوید بخاری





Note: All urdu novels and urdu books available in PDF format Imran series download and Islamic books free any time don't forget to bookmark http://www.urdupunch.co.vu
feedback requerd 
{[['']]}

محبّت اشفاق احمد اقتباس زاویہ

ہمارے بابا جی محبّت کے معاملے پر بہت زور دیتے تھے اور ان کا کہنا تھا کہ ہمارے مسائل کا واحد آسان حل یہ ہے کہ ہم سب ایک دوسرے سے محبّت کریں -
ایک دوسرے کی غلطیوں کو معاف کریں -
اور باہمی بھائی چارے کی وہ راہ اپنائیں
اب ہم سوچتے ہیں کہ ہماری مالی مشکلات حل ہونگی تو نماز بھی پڑہیں گے -
انسانیت سے محبّت بھی کریں گے -
یہ حقیقت میں میرے جیسے لوگوں کا بہانہ ہے -
لوگوں کو توقیر بخشنے اور محبّت کرنے میں تو کوئی رسید نہیں دینا پڑتی -
نہ کوئی اکاؤنٹ کھلوانا پڑتا ہے -
بس آپ نے چند میٹھے الفاظ بولنے ہیں -
اور ماتھے سے شکنیں ختم کرنی ہیں -
جس کا درس حضور نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے مکے سے ہجرت کر کے مدینے میں دیا تھا -
از اشفاق احمد زاویہ ٣ کارڈیک اریسٹ صفحہ ٢٦٠
{[['']]}

Followers

 
Support : Creating Website | Johny Template | Mas Template
Copyright © 2011. UrduPunch - All Rights Reserved
Template Created by Creating Website Published by Mas Template
Proudly powered by Blogger